خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد اول 351 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء انکسار جیتا کرتا ہے اس لیے اپنے اندر اخلاق کی یہ دو اعلیٰ قدریں پیدا کریں۔صبر تحمل اور پورے حلم کے ساتھ آپ انکسار کو اختیار کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بڑا فائدہ پہنچے گا۔جہاں تک مہمانوں کے عمومی حقوق کا تعلق ہے اس میں حفاظتی نقطہ نگاہ بھی شامل ہے۔بعض اوقات ہم نے دیکھا ہے جلسہ سالانہ پر بعض لوگ یہ سمجھ کر کہ میلا ٹھیلا ہے لوگ غافل ہوں گے ، اُن کو لوٹنے کے لیے آجاتے ہیں۔چنانچہ مجھے یاد ہے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت سے جیب کترے ربوہ میں آگئے۔اُن کا ایک باقاعدہ منظم گروہ تھا۔ایک دو دن ہمیں بڑی مشکل پڑی رہی۔یہاں تک اس محاورہ کے مطابق کہ Let a thief to catch a thief کہ چوروں کو پکڑنے کے لیے چور کو ہی ملازم رکھا جائے۔وہ چور کی ادائیں سمجھتا ہے تو ایک ایسا شخص قا بو آیا جو کسی زمانہ میں اس گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔اُس نے چند منٹوں کے اندر اندر سارے جیب کترے پکڑوا دیے۔بات یہ ہے کہ اس موقع پر اور بھی کئی قسم کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں کئی قسم کی بد نیتیں لے کر لوگ یہاں آتے ہیں۔چور اُچکے، اٹھائی گیر اور کئی بدنی طور پر نقصان پہنچانے اور فتنے پیدا کرنے والے آجاتے ہیں۔ان سب کے خلاف آپ کو پوری طرح شعور کے ساتھ چوکس اور بیدار رہ کر وقت گزارنا چاہئے۔اس ضمن میں سب سے اہم دفاع تو دعا ہے۔کیونکہ دعا کی برکت شامل ہو تو اکثر مخالفانہ تدبیریں خود ہی باطل ہو جایا کرتی ہیں۔پستہ اس وقت لگتا ہے جب وہ نا کام ہو چکی ہوتی ہیں۔دعا نہ ہو تو معمولی معمولی تدبیریں بڑے بڑے حادثوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔اس لیے دوست بکثرت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام مخفی خطرات سے محفوظ و مامون رکھے۔دوسرے ہر شخص باشعور طور پر آنکھیں کھول کر بیدار ر ہے۔ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی علی نے تو مومن کی نظر کی تعریف کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے۔مومن کی نظر گہرائی میں سرایت کر جاتی ہے اور مخفی چیزوں کو پا جاتی ہے۔اس لیے ہر مومن کو اپنی بصیرت کو اور اپنی بصارت کو تیز کرنا چاہئے اور ہوشیار رہنا چاہئے اور باخبر رہنا چاہئے کہ ماحول میں کیا ہو رہا ہے۔اجنبی آدمی کو بلا وجہ مجرم سمجھنا تو کوئی ذہانت نہیں۔لیکن اجنبی کو تکلیف دیے بغیر اس کے احتمالی خطرہ سے محفوظ رہنا ذہانت ہے۔بعض دفعہ اجنبی آدمی سے جب بات کی جائے ، اس سے گفتگو کی جائے تو یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ اُس کی کوئی ضرورت آپ کے سامنے آجاتی ہے۔یعنی یہ بات بدظنی پر مبنی نہیں ہے کہ آپ کسی