خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد اول 350 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء بات اس لیے داخل ہے کہ رستہ کے حقوق کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر آنے جانے والے کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔پس اجتماعی آسانی پر انفرادی آسانیوں کو قربان کیا جاتا ہے۔اس لیے یہ انتظامات کسی تحکم کے کسی زبردستی کے کسی شاہی فرمان کے مظہر نہیں ہوتے بلکہ عوامی بہبود کے لیے بعض افراد سے درخواست کی جاتی ہے کہ آپ اجتماعی طور پر اپنے نفس کو قربان کریں۔ایک اعلیٰ مقصد کے لیے ایک ادنی چیز کی قربانی دینا یہ زندگی کا ایک بنیادی فلسفہ ہے۔پس جب اجتماعیت کے مقابل پر انفرادیت آئے گی۔تو انفرادیت کو قربان ہونا پڑے گا۔لیکن بحیثیت مجموعی اجتماعیت کی حفاظت بھی افراد کو فائدہ پہنچاتی ہے۔اجتماعیت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو افراد سے کلیتہ الگ کوئی اوپر کی فضا میں بس رہی ہو۔گویا آپ کے سارے فائدے اجتماعیت کو پہنچ رہے ہیں اور آپ محروم رہ رہے ہیں۔ہرگز ایسی بات نہیں ہے۔اجتماعی فائدہ سے مراد یہ ہے کہ ہر فرد بشر کو فائدہ پہنچے، ایک شخص اُس محدود فائدہ سے زیادہ استفادہ نہ کر جائے اور باقیوں کے حصہ کو نقصان نہ پہنچ جائے۔تو بالآخر یہ فائدہ ہر فرد کی طرف ہی لوٹتا ہے۔اس لیے تعاون کی روح ہی بہتر ہے اور آپ کے اپنے مفاد کے اندر ہے۔اس سلسلہ میں میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ایسے لوگ بھی آئے ہوں جوحسن اخلاق سے بات کرنے کے باوجود بھی بھڑک اٹھیں اور کہیں ہم نے جانا ہے تو ان کو جانے دیجئے۔جب تک حکومت رستہ کے اوپر ایسی پابندیاں عاید نہ کرے کہ فلاں رستے سے فلاں کا گزرنا ضروری ہے فلاں کا گزرنا ضروری نہیں جو پبلک جگہیں ہیں جو ہماری جائیداد نہیں ہیں مثلاً یہ جلسہ گاہ ہماری جائیداد ہے۔یہاں ہمیں انتظام کرنے کا پورا حق ہے۔مگر سٹرکیں تو ہماری جائیداد نہیں ہیں۔وہاں ایسی صورت میں آپ کو اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔حکومت کے متعلقہ ادارے ہیں آپ ان سے تعاون کریں۔اُن سے تعاون حاصل کریں اور بجائے اس کے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں ایسے مسائل ان کی طرف منتقل کیا کریں۔قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اسلام کی اخلاقی تعلیم کے بھی خلاف ہے۔اور حکمت کے بھی خلاف ہے۔تیسری بات اس ضمن میں میں یہ کہوں گا کہ اُس وقت اگر کوئی تلخی کے ساتھ بولتا ہے تو کارکنان تلخی نہ دکھا ئیں۔پیار اور محبت کے ساتھ سمجھائیں۔صبر کے اندر بڑی طاقت ہے۔انکسار میں ایک بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔اگر انکسار اور تکبر کا مقابلہ ہوتو اگر صبر ساتھ شامل ہو جائے تو لازماً