خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد اول 349 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء ہے۔بعض دفعہ ایک انبوہ کھڑا ہو جاتا ہے۔اس لیے میں یاد کرانا چاہتا ہوں کہ حضور اکرم ﷺ نے سڑکوں کے جو حقوق بیان فرمائے ہیں اُن کا خیال رکھیں۔اسلام ایک کامل مذہب ہے۔ہر چیز جو بنی نوع انسان کی زندگی سے کسی رنگ میں بھی تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق اس میں کامل تعلیم دی گئی ہے۔یہاں تک کہ سڑکوں اور بازاروں کے حقوق بھی قائم کئے گئے ہیں۔چنانچہ ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ بازاروں میں مجلسیں نہ لگائی جائیں۔کیونکہ جب بازاروں میں مجلسیں لگتی ہیں تو اس سے معاشرہ میں کئی قسم کی برائیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر آنے جانے والے مسافر جن کی خاطر بازار بنائے گئے تھے کہ وہ ان میں خرید وفروخت کریں، ان کے اصل کام میں یہ مجلسیں مخل ہو جاتی ہیں۔پس جو چیز اصل میں مخل ہو اس کا نام غیر منصفانہ فعل ہے۔تو بازاروں کا حق یہ ہے کے آپ اتنی دیر وہاں رہیں جتنی دیر رہنا ضروری ہے۔اتنی دیر ہوٹلوں میں بیٹھیں جتنی دیر ہوٹل میں بیٹھنا ضروری ہے۔وہاں مجلسوں کے اڈے نہ بنائیں اور اگر کبھی کچھ دیر کے لیے رکنا پڑے ( بعض دفعہ لازماً رکنا پڑتا ہے ) تو اس وقت بھی ذکر الہی میں مصروف رہیں۔دین کی باتیں کریں تا کہ ربوہ کا ما حول اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مہک اٹھے۔دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ بازاروں میں چلتے ہیں تو کارکن آپ کو یہ کہتے ہیں کہ یہ رستہ اختیار کریں اور وہ اختیار نہ کریں۔ایسی صورت میں دو قسم کی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات کارکنان تحکم اختیار کر لیتے ہیں۔محبت اور عاجزی سے سمجھانے کی بجائے وہ تحکمانہ رنگ اختیار کرتے ہیں۔تو ایسی صورت میں وہ لوگ بھی جن کو تعاون کی عادت ہے بعض دفعہ مزاج کی وجہ سے بھڑک اٹھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسانی مزاج بے شمار قسموں کے پیدا کیے ہیں۔بعض لوگ بڑی جلدی بھڑک اٹھتے ہیں۔ان کا بیماریوں سے بھی تعلق ہوتا ہے مثلاً کسی کو ہائی بلڈ پریشر ہے۔وہ بے اختیار ہو جاتا ہے۔اور پھر بڑی بڑی سخت باتیں بھی کہہ جاتا ہے۔تو اول تو کارکنان کو تہذیب اور اخلاق کے دائرے میں رہنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو محبت اور پیار کے ساتھ سمجھا ئیں۔رستہ سب کے درمیان ایک مشترک چیز ہے۔اس لیے انتظامی دقتوں کے پیش نظر اگر ہمیں بعض لوگوں سے درخواست کرنی پڑتی ہے کہ تھوڑی دیر ٹھہریں یا اس طرف چلیں اور اس طرف نہ چلیں۔مستورات کی طرف نہ چلیں۔مردوں کی طرف چلیں۔یہ ان کی سہولت کی خاطر ہے۔اور رستہ کے حقوق میں یہ