خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد اول 341 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء پیدا ہو اور آنکھوں کے لئے بھی لذت کا سامان پیدا ہو کہ چھوٹے چھوٹے بچے درود پڑھتے ہوئے نمازوں کے لئے جگاتے پھر رہے ہیں۔یہ انتظام بھی انشاء اللہ تعالیٰ بہت مفید ثابت ہوگا۔ضرورت صرف بار بار نصیحت کرنے کی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے احمدیوں کو سننے والے کان عطا کئے ہیں اور ایسے دل عطا فرمائے ہیں جو بڑی جلدی پکھل جاتے اور مائل ہو جاتے ہیں۔ذراسی توجہ کے نتیجہ میں ہم بہت بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ جلسہ سالانہ کے لئے مخلص اور محنتی کارکنان کی ضرورت ہے۔افسر جلسہ سالانہ کو یہ شکایت ہے کہ کارکنان کا معیار گر رہا ہے۔جس لگن اور قربانی اور جذبے اور روح کے ساتھ ایک زمانے میں احمدی بچہ اور احمدی نوجوان کام کیا کرتا تھا اس معیار میں کچھ کمی آگئی ہے۔جب میں ایسی باتیں خطبے میں بیان کرتا ہوں تو بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ آپ نے یہ کیا اندھیر کر دیا۔آپ یہ کمزوریاں سب کے سامنے کھول کر بیان کر رہے ہیں۔ان کے خطوط کے باوجود میں یہ بیان کر رہا ہوں اور بیان کرتا چلا جاؤ نگا کیونکہ اپنی ایسی کمزوریوں سے پردہ پوشی کرنا جو اصلاح طلب ہوں، یہ نیکی نہیں ہے بلکہ اپنی جان پر ظلم ہے۔بلا وجہ اپنی تعریف کرنا اور بلا وجہ اپنے عیوب کو چھپانا، حقیقتاً کوئی نیکی نہیں ہے ، بلکہ تقویٰ کے خلاف بات ہے۔اس لئے جو کمزوریاں ہمارے علم میں آتی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو اپنے سامنے کھول کر رکھیں ،محسوس کریں اور معلوم کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اور پھر ان کو دور کریں۔یہی قول سدید کا طریق ہے اور اس کے نتیجے میں لازماً اصلاح ہوگی۔قرآن کریم کا بیان یا يُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ (الاحزاب :۷۲-۷۱) اتنا قطعی ، اتنا پختہ اور اتنا یقینی ہے کہ کبھی بھی اس کا وار خالی نہیں جاتا۔پس آپ قول سدید اختیار کریں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قول سدید کے نتیجے میں آپ کو کوئی نقصان پہنچے۔اس لئے جو کمزوریاں ہیں ان کو تسلیم کرنا چاہئے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اگر افسر جلسہ سالانہ نے محسوس کیا ہے تو لازماً کمزوریاں ہونگی۔پس میں تمام کارکنان جلسہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کے معیار کو بلند کریں اور بہت بلند کریں۔مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد افسر جلسہ کو انشاء اللہ کوئی شکایت پیدا نہیں ہوگی۔