خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد اول 332 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۸۲ء بہت ہی ناقص العقل آدمی کا فیصلہ ہوتا ہے۔در حقیقت اس میں دو پہلو ہیں جو ہمیشہ مد نظر رہنے چاہئیں۔اول یہ کہ خدا کی رضا کی خاطر آپ جلسہ گاہ میں بیٹھتے ہیں۔خواہ بور بھی ہو رہے ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کی رضا آپ کو مل رہی ہوتی ہے اس سے بہتر آپ کو کیا چیز حاصل ہو سکتی ہے۔آپ نے دیکھا نہیں جب تک غیر ملکیوں کے لئے ترجمے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا سارے غیر ملکی صبح سے شام تک خاموشی سے بیٹھے ہوتے تھے ان کی طرف سے ایک آواز بھی نہیں آتی تھی یعنی وہ روزانہ کئی کئی گھنٹے مسلسل محض اللہ کی رضا کی خاطر بیٹھے رہتے تھے۔حالانکہ ایک لفظ کی بھی ان کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی تھی۔ان کو دیکھ کر ان سے ہی نمونہ پکڑا ہوتا۔یہ خیال کر لینا کہ وہ آئے اور ان کا سب کچھ ضائع ہو گیا ان کا وقت ضائع ہو گیا ، ہزار ہا روپے خرچ کر کے ہزاروں میل دور سے آئے ہیں۔ان کے پیسے ضائع گئے ، یہ خیال ہی بے وقوفی کا خیال ہے۔آنے والے جانتے ہیں کہ ان کے دل برکتوں سے بھر رہے ہوتے ہیں۔جب وہ واپس جاتے ہیں تو ان کی کایا پلٹ چکی ہوتی ہے۔پس جلسہ کا یہ وقت اپنی ذات میں برکتوں کا وقت ہے۔جب خدا کی خاطر آپ خاموشی سے کسی جگہ بیٹھتے ہیں تو ویسے ہی یہ سودا بڑا مفید اور کارآمد سودا ہوتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ یہ بھی نفس کا ایک تکبر ہے کہ فلاں تقریر کچھ نہیں ہمارے لئے بے کار ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں ہم کافی عالم ہیں۔ہمیں تقریر سننے کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ لوگ بڑی محنت سے تقریریں تیار کرتے ہیں اور ہر تقریر میں کوئی نہ کوئی ایسا نکتہ ضرور ہوتا ہے جو بڑے سے بڑے عالم کے ذہن میں بھی نہیں آیا ہوتا۔اس لئے تقریریں سننے سے بہت ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اگر جلسہ پر آنے والے جلسہ کی تقاریر میں سے ایک دفعہ گزرجائیں تو ان کی بالکل کا یا پلٹ جائے گی۔ان کے علم میں برکت پیدا ہوگی اور ان کے اخلاص میں برکت پیدا ہو گی۔ایک تبدیل شدہ شخصیت لے کر وہ واپس لوٹیں گے۔اور اگر آپ نے صرف اپنی لذت کی خاطر جلسہ گاہ میں بیٹھنا ہے تو اس میں پھر ایک خود غرضی کا پہلو آ جاتا ہے۔اس میں رضائے باری تعالیٰ کا پہلو کہاں چلا گیا جو تقریر پسند ہے وہاں بیٹھ گئے جو نہیں پسند اس میں نہیں بیٹھے۔جلسہ کی اپنی ایک حرمت ہے اس حرمت کا خیال رکھیں گے تو پھر آپ کا سارا وقت رضائے باری تعالیٰ کے حصول میں شمار کیا جائے گا۔