خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 29

خطبات طاہر جلداول 29 29 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء بعض مجالس میں۔میں نے ان میں بعض صفات بڑے قریب سے دیکھیں۔ایک تو بہت محنت کی عادت تھی دوسرے راز داری کا مادہ بہت پایا جاتا تھا اور کلیتہ ان کے اوپر انحصار کیا جاسکتا تھا۔تیسرے وفا بہت تھی اور خلافت احمدیہ کے ساتھ تو ایسی کامل غیر متزلزل و فاتھی کہ جس کو نصیب ہو اس کے لئے یقیناً قابل رشک ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔اگر یہاں جنازہ آیا ہوا ہو تو انشاء اللہ نماز جمعہ کے بعد یہیں ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ساتھ ہی اس دعا کی بھی تحریک کرتا ہوں کہ جہاں ان کے لئے بلندی درجات کی دعا کرتے رہیں وہاں یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اگر ایک اچھا خادم ہم سے اٹھالے تو اس کی جگہ ہزار اچھے خادم ہمیں عطا کرے۔کیونکہ کام بہت ہے اور طاقت کم ہے۔بہت زیادہ کام ہے دنیا میں۔ابھی تو ہمیں کسی ایک ملک میں بھی روحانی غلبہ نصیب نہیں ہوا۔تو اچھے کارکن اگر اٹھتے چلے جائیں اور ان کی جگہ بہت سے اور اچھے کارکن جگہ لینے کیلئے آگے نہ آئیں تو کام کیسے چلے گا۔تو کل اللہ ہی کی ذات پر ہے اور وہی کام کو چلائے گا۔مگر ہمارا فرض ہے کہ بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے عاجزانہ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے کارکنوں سے کبھی بھی خالی نہ رکھے۔ایک لے تو اس کی جگہ ہزار اور دے اور یہ سلسلہ فضلوں، رحمتوں اور برکتوں کا آگے ہی آگے چلتا چلا جائے۔خطبہ کے بعد فرمایا: جنازہ آچکا ہے۔میں نماز جمعہ کے بعد اور سنتوں سے پہلے نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔اس کا طریق یہ ہوگا کہ چونکہ محراب میں امام اور میت کے درمیان دیوار ہے اس لئے میں فرض پڑھانے کے بعد باہر چلا جاؤں گا۔ایک صف باہر بن جائے گی۔باقی احباب اپنی اپنی صفوں میں کھڑے رہیں اور نماز جنازہ میں شامل ہوں۔“ روزنامه الفضل ربوه ۵/ جولائی ۱۹۸۲ء)