خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد اول 318 خطبه جمعه ۳/ دسمبر ۱۹۸۲ء میں پھیلانا ہے تا کہ جب یہاں سو سالہ جشن منایا جارہا ہو تو ہر قوم قرآن کی تلاوت کرتی ہوئی آئے اور احادیث پڑھتی ہوئی آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ نغمے الاپتی آئے جو آپ نے قرآن اور حدیث اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عشق میں کہے۔یہ ہے ہمارا جشن۔ہم کسی ڈھول ڈھمکے کے تو قائل نہیں۔جب تمام دنیا سے قافلے یہ گیت گاتے ہوئے ربوہ میں داخل ہوں گے، وہ ہوگا اصل جشن جس سے روحیں ایک عجیب سرور حاصل کریں گی اور خدا کی راہ میں قربانیوں کے لئے ایسی نئی قوت پائیں گی کہ اگلے سو سال کے لئے وہ قوتیں کام دیں گی۔لیکن اس جشن کی تیاری کے لئے جو ضروریات ہیں ان کو پورا کرنے کے سلسلہ میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اب سوائے اس کے کہ ہر وہ شخص جس نے صد سالہ جو بلی میں وعدہ لکھوایا ہے جب تک غیر معمولی طور پر توجہ اور الحاح کے ساتھ دعا نہ کرے، اس وقت تک اس کے یہ فرائض پورے نہیں ہو سکتے۔میں بھی دعا کروں آپ بھی دعا کریں، بچے بھی ، بڑے بھی عورتیں بھی ، مرد بھی۔سب کے سب اس طرح دعائیں کریں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس طرح سپین کی مسجد کی تعمیر کے وقت آپ کی دعائیں پوری ہوتی آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھیں۔یوں لگتا تھا کہ خدا کے فرشتے بارش کے قطروں کی طرح اتر رہے ہیں۔یہ ہوتا ہے دعاؤں کا مزہ کہ آنکھ کو دکھائی دے کہ ہاں کچھ ہو رہا ہے اور ایک عجیب پاک تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ایسے آنسو بہانے کی ضرورت ہے ایسی دعائیں کرنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ سو سالہ جشن کے حقوق ادا نہیں کرسکیں گے۔نہ قربانی کے لحاظ سے اور نہ دوسرے فرائض کے لحاظ سے جن کا خلاصہ میں نے اس وقت پیش کیا ہے بلکہ خلاصہ بھی نہیں ، بہت بڑے وسیع کاموں میں سے چند ایک عنوانات آپکوسنائے ہیں۔پس دعا کریں، پھر دعا کریں اور پھر دعا کریں۔اشکوں کی راہ سے اپنے خون بہائیں خدا کی راہ میں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائیگا اور سارے کام بنادے گا۔پتہ بھی نہیں لگے گا کہ بوجھ کس چیز کا نام ہے۔بوجھ خود بخو داتر تے چلے جاتے ہیں اور قربانیوں کی توفیق ملتی جاتی ہے۔دعا ایک ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں برکت کے۔اس کا وہ کنارا بھی