خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد اول 317 خطبه جمعه ۳/ دسمبر ۱۹۸۲ء ایک قسم کا تزلزل پیدا کر دیتی ہے اور وہ خدا کی عظمت کے احساس سے کانپنے لگ جاتا ہے۔اس قدر براہ راست قوت ہے اس کلام میں تو ایسی آیات کا انتخاب کر کے نہایت ہی پاکیزہ آواز والے قاریوں سے انکی تلاوت کروائی جائے۔فنی لحاظ سے جو قاری ہیں وہ میرے ذہن میں نہیں ہیں بلکہ ایسے قاری ہوں جو معانی سمجھتے ہوں اور ان معانی میں ڈوب کر اور پورا دل اور جان ڈال کر تلاوت کریں۔پھر مختلف زبانوں میں ان آیات کے ترجمے ہوں۔میرے ذہن میں تو یہ نقشہ ہے کہ ہمیں کم از کم سوز بانوں میں قرآن کریم کی تلاوت کی ٹیپیں تیار کرنی چاہئیں۔یعنی چھوٹی چھوٹی علاقائی زبانوں میں بھی تیار ہوں لیکن دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کی طرف تو ہمیں فوری توجہ دینی چاہئے۔دس پندرہ ایسی زبانیں ہیں جن کی اکثریت کے علاقوں کو ہم کو ر (Cover) کر سکتے ہیں۔یعنی وہاں تک ہم پہنچ سکتے ہیں۔الله علاوہ ازیں آنحضرت ﷺ کا کلام یعنی حدیث ہے۔مختلف موضوعات پر احادیث کی ٹیسیں تیار کی جائیں۔کچھ اقتصادی پہلو سے تعلق رکھتی ہوں کچھ نظریات سے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق آپ کا بیان ہے۔حشر و نشر کے متعلق آپ کا بیان ہے۔اسی طرح آپ کی اور بہت سی پیاری باتیں ہیں۔انسان تقریروں میں لاکھ مہارت حاصل کر جائے۔حضرت محمد مصطفی اللہ کے کلام کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ایک ایک کلمہ بعض دفعہ اتنا گہرا اثر کرتا ہے کہ کوئی چیز اس اثر کو روک نہیں سکتی۔وہ ہر مدافعانہ طاقت کوتو ڑ کر دل میں اتر جاتا ہے۔اس میں سچائی ہے وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔اس میں ایسا نور ہے جو انسان بناہی نہیں سکتا جو بناتا ہے وہ اسی نور سے لیکر بناتا ہے۔اس کی طاقت سے طاقت حاصل کر کے آگے اس کے کلام میں عظمت پیدا ہوتی ہے اس لئے جب تک ہم حضرت محمد مصطفی ملی کا کلام دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے (اور اس میں سے بھی صرف انتخاب پیش کرسکیں گے ) اور پھر اس کے تراجم پیش نہیں کرتے ، دنیا کو کیا پتہ کہ کون ہم سے مخاطب ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ہے۔اللہ کے عشق میں آپ نے جو گیت گائے ہیں، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کی محبت میں جو گیت گائے ہیں اور قرآن اور اسلام کی محبت میں جو گیت گائے ہیں ان کو مختلف اچھی آواز والوں سے ریکارڈ کروا کر مختلف زبانوں میں منظوم ترجمے کروانے ہیں اور پھر ان منظوم تراجم کو کیسٹ میں بھرنا ہے یا وڈیو کی شکل میں اتارنا ہے۔اور ساری دنیا