خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد اول 316 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء ساری انسانی کتا میں خواہ وہ کتنے بڑے بزرگوں اور علماء کی لکھی ہوئی ہوں ، وقت سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔اس لیے بڑی جرات اور بڑی قوت کے ساتھ ہمیں ان کو بتانا پڑے گا کہ موجودہ وقت کے نقطۂ نگاہ سے اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلام کیا نظام پیش کرتا ہے اور دلائل سے منوانا پڑے گا کہ یہ نظام بہتر ہے اور تمہارا نظام اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔پھر اس نظام کے ساتھ جو مزید فوائد وابستہ ہیں اور جن کا تصور بھی ان کے نظاموں میں نہیں پایا جاتا وہ بھی ان کے سامنے پیش کرنے پڑیں گے۔ان باتوں کے وہ قائل ہوں گے تو اسلام میں دلچسپی لیں گے۔ورنہ دنیا کی بھاری اکثریت دہر یہ ہو چکی ہے۔ان کو اس بات میں ایک کوڑی کی بھی دلچسپی نہیں کہ مذہب کیا چیز ہے؟ میں نے ایسے لوگوں سے بارہا گفتگو کی ہے ابھی یورپ میں بھی کئی جگہ گفتگو کا موقع ملا۔جو عیسائی کہلانے والے ہیں ان میں سے بھی اکثر عملاً دہر یہ ہو چکے ہیں۔ان کے اندر کوئی ایسی دلچسپی نہیں ہوتی تھی کہ ہم ایک دم عیسائیت اور اسلام کی باتیں شروع کر سکتے۔اس لیے ایسی مجالس منعقد ہوتی تھیں جن میں ان کے ہر قسم کے سوالات کے جواب قرآن کریم کی رو سے دیے جاتے تھے۔نتیجہ جب وہ دیکھتے تھے کہ ان کے دنیاوی سوالات کا حل قرآن کریم میں ہے تو پھر ان کے اندر دلچپسی پیدا ہوتی تھی۔پس با تیں تو ساری ہی قرآن کریم کے حوالے سے ہونگی خواہ اقتصادیات کی باتیں ہوں خواہ فلسفے کی باتیں ہوں، خواہ سائنس کی باتیں ہوں۔لیکن سائنسدان کو سائنس کی زبان سمجھ آئے گی۔فلسفہ دان کو فلسفہ کی زبان سمجھ آئیگی اور اقتصادیات کے ماہر یا اقتصادیات میں دلچسپی لینے والی دنیا کو اقتصادیات کی زبان سمجھ آئے گی۔یہ سارے کام ایسے ہیں جو ابھی ہونے والے ہیں ان کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے۔پھر جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ہمیں ایسی قوموں کے لئے جن کو قرآن کریم کے ساتھ کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے، قرآن کریم کی ایسی آیات کا انتخاب کرنا پڑے گا، جوان پر اثر کریں۔خواہ کوئی دہریہ ہو یا غیر دہریہ، قرآن کریم کی تلاوت اسکے دل پر گہرا اثر کرتی ہے۔قرآن کریم میں یہ طاقت ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ (الزمر: ۲۴) انسان کے اندر