خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد اول 307 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء واقعہ بوجھ تھیں ان سب کو اتار پھینکا۔نفسیاتی لحاظ سے رجحان میں بھی تبدیلی پیدا کی اور وہ ذمہ داریاں جو خدا نے نہیں ڈالی تھیں ان کو بھی دور فرما دیا۔چونکہ اردو میں کوئی دوسرا لفظ نہیں ملتا اس لئے میں مجبور ہوں کہ بوجھ کہوں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور اس کا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ جس جماعت کو قربانی کے لئے بلائے اور اس پر انحصار کر دے دنیا میں انقلابات لانے کا، اس پر بنار کھدے ایک نئی زمین اور اک نئے آسمان کی تعمیر کی اس کے لیے اس سے بڑا انعام اور احسان اور کیا ہو سکتا ہے۔یعنی اس ساری دنیا میں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہی چنا ہے انقلاب اور تبدیلی لانے کیلئے۔حالانکہ آج دنیا میں اربوں ارب روپیہ کمانے والے ایسے افراد موجود ہیں جو جماعت احمدیہ کی کل دولت سے زیادہ اکیلے دولت رکھتے ہیں پھر بیشمار کمپنیوں میں سے ایسی Multi National کمپنیاں موجود ہیں جو بعض بڑے بڑے ملکوں کی دولت سے زیادہ دولت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔پس جہاں تک دولتوں کے سمندر کا تعلق ہے ہم اس کا ایک قطرہ بھی شمار ہونے کے اہل نہیں ہیں پھر جہاں تک دنیاوی طاقتوں اور سیاسی طاقتوں کا تعلق ہے، دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس لئے خدا کا ہمیں اس بات کیلئے چن لینا کہ ساری دنیا کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لو اور میں تمہارے ساتھ ہوں ، اس سے بڑا احسان اور اس سے بڑا انعام اور کیا ہوسکتا ہے۔اسلئے یہ ہماری خوش قسمتی ہے اور جب تک خوش قسمتی سمجھ کر ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہیں گے ادا ئیگی کی بھی توفیق ملتی رہے گی اور اس کے بدلے میں ہم بے انتہاء فضلوں کے بھی وارث بنائے جائیں گے۔لیکن اگر ہم نے اس انعام کو اصر سمجھ لیا۔ایسا بوجھ جو چیٹی کے طور پر پڑ جاتا ہے تو پھر ہماری قربانیاں بھی رائیگاں گئیں اور انکے مقاصد بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔سوال یہ ہے کہ ایسی جماعت جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں اخلاص کے لحاظ سے ایک بے مثل مقام رکھتی ہے اور جب وہ وعدہ کرتی ہے تو پورے اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اسے پورا کرتی ہے، وہ اتنے اہم چندے میں پیچھے کیوں رہ گئی؟ میں نے مختلف حیثیتوں میں بطور سائق بھی کام کیا ، بطور زعیم بھی کام کیا ، بطور قائد بھی اور بطور صدر مجلس بھی۔اسی طرح وقف جدید میں بھی مجھے موقع ملا۔جماعت کے مالی نظام کے متعلق میرا سالہا سال کا تجربہ ہے کہ جماعت احمدیہ، بحیثیت جماعت