خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد اول 27 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ہر ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا۔اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ ( راہیں) نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں ، تمہارے قویٰ کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں، وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی ہاں فہم اور ادراک حسب مراتب تقوی کم و بیش ہو سکتا ہے۔اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جو اولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہو جاتے ہیں اور معارف اور دقائق کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ ربانی ان کے رگ وریشہ میں خون کی طرح جاری ہو جاتا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۷ تا ۱۷۹) پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نظم میں جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وہ دُور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دُور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں