خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد اول 299 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء داخل ہو جاؤ گے اور عباد میں داخل ہونے کا مطلب ہے وَادْخُلِي جَنَّتِی تم میری جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔یہ وہ مقام ہے جو ایک لحاظ سے ایک درجہ تک اس دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہو جاتا ہے۔خدا کے جتنے برگزیدہ بندے انبیاء کی صورت میں ہمیں نظر آتے ہیں یا جو دوسرے نسبتا ادنی مقامات پر ہوتے ہیں ان میں بھی ہم درجہ بدرجہ رضا کا یہی مقام دیکھتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے رب سے پیار کا ایک بڑا پیارا واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے جو دراصل اسی فلسفہ کو ظاہر کرتا ہے۔آپ نے ایک ضرورت کے وقت ایک نئی جگہ میں جہاں آپ کا کوئی ساتھی نہیں تھا، کوئی واقف نہیں تھا کوئی مددگار نہیں تھا، ایسی حالت میں بیٹھ کر دعا کی۔آپ کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تھے۔صرف اپنے رب سے مانگنا چاہتے تھے اور اس کے سوا کسی اور سے مانگنے کی عادت ہی نہ تھی لیکن کوئی سہارا نہیں تھا۔خوف کی وجہ سے اپنے وطن سے نکل گئے تھے۔ایک نئی قوم میں جا کر سوچ رہے تھے کہ اب میں کیا کروں۔چنانچہ وہاں بیٹھے بیٹھے انہوں نے یہ دعا کی: رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القمص ۲۵) کیسی عجیب تمنا ظاہر کی ہے۔کہتے ہیں اے میرے رب ! تو جو کچھ بھی مجھے دے وہی میری تمنا ہے میں اسی پر راضی ہوں۔میں فقیر اس چیز کا ہوں جو تو مجھے عطا کرے۔یعنی کچھ نہیں بتایا کہ میں کیا چاہتا ہوں، میری کیا تمنائیں ہیں ، میری کیا ضروریات ہیں ، میں بھوکا ہوں، میں شادی کے بغیر ہوں، مجھے سہارا چاہئے ، ایک نئے قبیلہ میں آیا ہوں۔مجھے کوئی نہ کوئی سا یہ چاہئے جس کے تحت میں یہاں زندگی گزاروں۔اور بے شمار ضروریات ہو سکتی تھیں۔لیکن کیسا پیارا فقرہ دماغ میں آیا ہے۔کیسی پیاری سوچ ہے۔معلوم ہوتا ہے بڑا غور کیا ہو گا کہ آخر میں اپنے رب سے کیا مانگوں۔اتنی ضرورتیں کیا بتاؤں۔اتنی لمبی چوڑی تقریر میں کیا کروں۔پھر یہ سوچا ہوگا کہ میں تو اپنے اللہ سے محبت کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ میری محبت کے جواب میں وہ ہمیشہ مجھ سے محبت ہی کرتا ہے تو کیوں نہ یہ معاملہ اس پر چھوڑ دوں۔اس کو بھی یہ پتہ ہے کہ جو کچھ مجھے دے گا میں اس سے راضی ہو جاؤں گا اور مجھے بھی یہ پتہ ہے کہ مجھے وہی دے گا جس سے میں راضی ہوں گا تو اس کے بعد پھر اور مانگنے کا سوال ہی کیا باقی رہ جاتا ہے۔اس لئے آپ یہ دعا کرتے ہیں: