خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد اول 298 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء تقاضے ہیں۔اس کے اپنے بھی تو کچھ ذوق ہیں وہ بھی تو پورے ہونے چاہئیں۔اس لئے وہ عشق پھر بھی بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے جس عشق کا ذکر فرمایا ہے وہاں ہر رضا کے ساتھ ایک متقابل رضا بھی ملتی ہے جو مرضيّةً کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جس مقام پر بھی ہو گے، خواہ تم اعلیٰ بندوں میں سے ہو یا ادنی بندوں میں سے ہو، خواہ علماء میں سے ہو یا جہلا میں سے ہو،حسین لوگوں میں سے ہو یا بد صورتوں میں سے ہو ، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تم مجھ سے یا میری کسی ایک ادا سے بھی راضی ہو گئے تو اس کے جواب میں ایک مرْضِيَّةً کی حالت بھی پاؤ گے اور اس کا ایک جواب دیکھو گے۔میں ہمیشہ اس کے جواب میں تم سے راضی ہوا کروں گا اور تم سے اپنے پیار کا اظہار کروں گا۔یہ ہے طمانیت قلب جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔رَاضِيَةً مرْضِيَّةً اس حالت میں کہ ہر دفعہ جب عاشق اپنے معشوق سے راضی ہوتا ہے تو معشوق بھی رضا کی ایک ادا دکھاتا ہے ، اس سے پیار کا اظہار کرتا ہے، اسی کا نام طمانیت قلب ہے۔اس کے سوا طمانیت قلب حاصل کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔جاہل ہیں وہ لوگ جو اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے رستوں میں طمانیت کی تلاش کیا کرتے ہیں۔پس وہ لوگ جو مجھے خط لکھ کر پوچھتے ہیں اور دنیا کی بے قراری کا علاج چاہتے ہیں ان کو میں بتا دیتا ہوں کہ اس علاج کے سوا مجھے تو کوئی اور علاج نظر نہیں آتا کہ اپنے رب سے محبت پیدا کریں اس کو اپنا مطلوب بنالیں۔اس کو اپنا مقصود بنالیں اور پھر اس سے راضی ہونا سیکھ جائیں۔آپ اس رضا میں جتنا آگے بڑھتے چلے جائیں گے اتنا ہی آپ عبودیت میں داخل ہوتے چلے جائیں گے۔اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے عبد بنتے چلے جائیں گے۔اور جب کوئی انسان خدا کا کامل عبد بن جائے تو اس سے ایک اور نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہی کامل عبد ہوتا ہے جس کا اپنا کچھ نہ رہے۔اپنے وجود سے کلیۂ خالی ہو جائے اور پھر جو کچھ اس کو مالک دیتا ہے وہی اس کا ہوتا ہے۔یعنی سو فیصدی مالک پر منحصر ہو جاتا ہے۔جب اپنا کچھ نہیں رہا تو جو کچھ بھی مالک سے ملتا ہے بطور عطا ہی ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جب ہم تمہیں ہر دوسری چیز سے خالی کر دیں گے یعنی تمہاری تمنائیں تو رہیں گی لیکن میری غلام بن کر رہیں گی۔آزاد تمنا ئیں نہیں رہیں گی۔غالب تمنا ئیں نہیں رہیں گی۔میری یاد کے نیچے مغلوب ہو جائیں گی۔تب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جو کچھ میرا ہے وہ تمہارا ہو جائے گا۔تب تم میرے عباد میں