خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد اول 297 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء حالتوں میں رکھا۔تمہیں دکھ بھی پہنچے۔تمہیں خوشیاں بھی ملیں۔تم اور لوگوں کی طرح بیمار بھی ہوا کرتے تھے۔تم شفا بھی پا جایا کرتے تھے۔تمہیں مالی پریشانیاں بھی لاحق ہوتی تھیں اور تمہاری پریشانیاں دور بھی ہو جاتی تھیں لیکن ہر حالت میں تم اپنے خدا سے راضی رہے۔تم نے کبھی شکوہ نہیں کیا کہ اے خدا! میں تو تیری عبادت کرتا ہوں مجھے دکھ کیوں پہنچتا ہے۔میں بیمار کیوں ہوا۔میرے بچے کیوں فوت ہوئے۔میری بیوی کو کیوں نقصان پہنچا۔میری جائیدادیں کیوں تباہ ہوئیں۔یہ سارے حالات جس طرح دوسرے انسانوں پر گزرے تھے اے میرے بندہ! تجھ پر بھی گزرتے رہے۔اگر چہ یہ الگ بات ہے کہ دوسروں کی نسبت تو کم ابتلاء میں تھا۔لیکن جہاں تک تیری ذات کا تعلق ہے تو بھی زندگی کے زیر و بم میں سے گزرا ہے۔لیکن ہر حالت میں تو مجھ سے راضی تھا۔غم کی حالت میں بھی تو مجھے یاد کیا کرتا تھا۔خوشی کی حالت میں بھی یاد کیا کرتا تھا۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا و عَلَى جُنُوبِهِمْ (آل عمران: ۱۹۲) کی رو سے یہ تیری حالت تھی کہ راتوں کو بھی اٹھتا تو خدا کو یاد کرتا تھا۔کھڑے ہو کر بھی یاد کرتا تھا لیٹے ہوئے بھی یاد کرتا تھا۔بیٹھے ہوئے بھی یاد کرتا تھا۔اسی طرح فرمایا يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّارَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجد (۱۷) کہ خدا کو یاد کرنے والے ایسے بندے بن گئے تھے کہ وہ طمع کی حالت میں بھی خدا کو یاد کرتے تھے اور خوف کی حالت میں بھی یاد کرتے تھے۔یعنی وہ حالتیں جو دوسرے انسانوں کو خوف اور غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ان میں بھی ان کو اللہ ہی یاد آیا کرتا تھا۔پس اگر کسی وجود سے کامل طور پر محبت ہو جائے تو اس محبت کے نتیجہ میں اس کی ہر عادت اور ہر بات اور ہر ادا پیاری لگنے لگ جاتی ہے۔اور اسی کا نام طمانیت قلب ہے یعنی انسان کو محبت کا ایسا مقام حاصل ہو جائے اور وہ کسی ایک وجود سے ایسا پیار کرنے لگے کہ پھر اس کی ہر بات پر راضی ہونا سیکھ جائے۔لیکن یہیں تک بات نہیں رہتی۔دنیا میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک انسان اپنے محبوب سے راضی رہتا ہے لیکن محبوب راضی نہیں ہوتا۔ہر انسان کا اپنا اپنا مقام ہے کوئی خوبصورت ہے کوئی بدصورت ہے کوئی اعلی علمی صلاحیتیں رکھتا ہے کوئی جہالت میں مبتلا ہے۔قومی فرق ہیں، نسلوں کے فرق ہیں۔مزاجوں کے فرق ہیں۔انسانی دنیا میں اکثر ہم یہی دیکھتے ہیں کہ عاشق تو راضی ہوا پھرتا ہے اور معشوق راضی ہی نہیں ہونے میں آتا اور وہ بے چارا ہو بھی نہیں سکتا۔اس کے اپنے بھی تو کچھ