خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد اول 296 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء کھینچا ہے وہ یہی نقشہ ہے۔ کوئی ایک بھی تو مقام ایسا نہیں جہاں انسان پہنچ کر یہ سمجھ لے کہ میں نے سب کچھ پا لیا اور مجھے چین نصیب ہو گیا ۔ اس سے آگے اور مقام پیدا ہوتے ہیں اور اس سے آگے اور مقام پیدا ہوتے ہیں ۔ ایک وادی مانگتا ہے تو دوسری وادیاں منہ کھولے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ اس کے برعکس کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنے اللہ کواپنی تمنا بنالیتے ہیں۔ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے یہی - صلى الله ۔ معنی ہیں ۔ اسی لئے آنحضور ﷺ نے فرمایا: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تم جس ذکر کی تلاش میں ہو کہ وہ تمہیں سکون بخشے اور تمہاری طبیعتوں کو اطمینان عطا کرے، وہ ذکر تو اس فلسفہ کا نام ہے کہ اللہ تمہارا اللہ ہو جائے ۔ یعنی خدا خود تمہاری تمناؤں کا آخری مرکز بن جائے جو سب سے بالا اور سب سے افضل مقام ہے۔ گویا اس سے بڑھ کر کوئی تمنا نہ رہے۔ ظاہر ہے جب خدا مطلوب ہو جائے تو ہر دوسری تمنا اس کے تابع ہو جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی مختلف جگہ نظم میں بھی اور نثر میں بھی اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: در دو عالم مرا عزیز توئی و آنچه می خواهم از تو نیز توئی در مشین فارسی) اے مرے آقا! مجھے تو دونوں جہان میں تو ہی عزیز ہے۔ و آنچه می خواهم از نیز توئی۔ اور تجھ سے جو میں چاہتا ہوں وہ یہ کہ تیرے سوا میں کچھ اور نہیں چاہتا۔ مجھے صرف تو مل جائے گویا لا اله الا الله کی ہی یہ تفسیر ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے، خواہش کے آخری مقام کو الـه کہتے ہیں۔ کبھی وہ انسانی خواہش کا آخری مقام بن جاتا ہے۔ کبھی وہ حقیقتا خدا ہو جاتا ہے جو اللہ ہے۔ فرمایا اگر لا اله الا الله کی رو سے اللہ تمہارا آخری مطلوب ہو جائے تو پھر تمہاری کوئی بھی خواہش تمہیں بے قرار نہیں کر سکتی کیونکہ اسی کا نام ہے راضی ہو جانا۔ پیارے کی طرف سے جو کچھ ملتا ہے وہ پیارا لگنے لگ جاتا ہے کیونکہ انسان سمجھتا ہے پیارے ہاتھوں سے آیا ہے۔ پھر انسان یہ نہیں دیکھا کرتا کہ یہ کیا ہے۔ وہ پیارے کے ہاتھوں پہنچنے والے غم پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔ اس کے ہاتھوں پہنچنے والی خوشی پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔ رَاضِيَةً کے یہی معنی ہیں ۔ فرمایا ہم نے تمہیں مختلف