خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 295

خطبات طاہر جلد اول و 295 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء کہ اے میرے بندو! تم اس دنیا میں مجھ سے راضی ہو کر ر ہے۔میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ جب تم مجھ سے راضی ہو گئے تھے تو تم مَّرْضِيَّةً بھی بن گئے یعنی میں بھی تم سے راضی ہو گیا اور اسی مقام کا نام عبودیت ہے۔فرمایا اس حالت کے بعد ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں فَادْخُلِي فِي عبدی اب تم حق رکھتے ہو کہ میرے بندے کہلا ؤ۔پس میرے بندوں کی صف میں داخل ہو جاؤ۔وَادْخُلِي جَنَّتِی اور جو کچھ میرے بندوں کا ہے وہ میرا ہے اور جو میرا ہے وہ میرے بندوں کا ہے۔رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً میں یہی تصویر کھینچی گئی ہے۔پس میری جنتیں تمہاری جنتیں ہو گئیں۔یہاں جنت کو الجنة نہیں کہا گیا۔یہاں جنت کی کوئی باغوں والی تصویر نہیں کھینچی گئی بلکہ جَنَّتِی کہا گیا ہے کہ میری جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی جنت کا اس سے بڑا کوئی تصور نہیں کہ اللہ کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔اس جنت کا دوسرا نام رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً رکھا گیا۔گویا انسان اپنے رب سے راضی اور اللہ اس کے راضی ہونے کے نتیجہ میں اس سے راضی ہو جائے۔پس یہاں تمناؤں کو رد نہیں کیا گیا ، تمناؤں کے رخ موڑ دیئے گئے ہیں۔تمناؤں کی تربیت کی گئی ہے۔تمناؤں کو ایسے رستہ پر چلایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں تمنا ئیں بے چینی پیدا کرنے کی بجائے اطمینان پیدا کرنے لگ جاتی ہیں۔یہ بہت ہی عجیب مضمون ہے اس کو دوسری جگہ خدا تعالیٰ اس طرح کھول کر بیان فرماتا ہے کہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ ہیں جنہوں نے اپنی تمناؤں کو اپنا معبود بنالیا اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔وہ ان کی آقا بن جاتی ہیں۔ان کو در بدر لئے پھرتی ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے سکون کا پیدا ہونا ایک ایسی ناممکن بات ہے جس کا تصور ہی اس دنیا میں نہیں پایا جاتا۔یہ ایک حسابی حقیقت ہے کہ جن کی تمنائیں ان کا معبود بن جائیں ان کو اس دنیا میں کبھی اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔وہ حسابی حقیقت یہ ہے کہ تمناؤں اور حصول تمنا کی نسبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔تمنائیں آگے بھاگتی ہیں اور حصول تمنا اس سے پیچھے رہ جاتی ہے۔انسانی زندگی میں کبھی کوئی ایسا مقام نہیں آیا کہ اس کی تمنا پوری ہو کر آگے پھر کوئی تمنا باقی نہ رہی ہو۔ایک تمنا پوری ہو کر اگلی تمناؤں کے بچے پیدا کر دیتی ہے۔چنانچہ پھر نئی تمنائیں اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں اور اس طرح تمناؤں کی پیروی کا ایک ایسالا متناہی سفر شروع ہو جاتا ہے جہاں ہر مقام پر بے چینی ہے ہر حصول تمنا ایک اور بے قرار تمنا پیدا کر دیتا ہے۔قرآن کریم نے هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ (۳۹) کی جہنم کا جو نقشہ