خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد اول 294 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء شریک ہی نہ رہے ، وہ انسان تو انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں رہتا۔پس اگر چہ تمناؤں سے آزاد ہو جانے والا یہ فلسفہ بظا ہر بڑا دیدہ زیب معلوم ہوتا ہے اور بعض فقیر اس فلسفہ کو اپنا کرنا چتے بھی دیکھے جاتے ہیں مگر قرآن کریم اس کو کلیۂ رد کرتا ہے۔سارے قرآن میں ایسا کوئی تصور آپ کو نہیں ملے گا کہ یہ تعلیم دی گئی ہو کہ تم تمناؤں سے آزاد ہو جاؤ۔ہاں تمناؤں سے اس طرح آزاد ہونے کی بجائے کہ کوئی تمنا ہی نہ رہے، قرآن کریم ایک ایسی راہ تجویز کرتا ہے جس پر چلنے کے نتیجہ میں تمنائیں مغلوب ہو جاتی ہیں۔وہ انسان کی مالک نہیں رہتیں بلکہ انسان ان کا مالک بن جاتا ہے۔وہ انسان کو اپنا غلام بنا کر نہیں رکھتیں۔بلکہ انسان کی غلام بن جاتی ہیں اور اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔رہا یہ کہ وہ مقام کیسے حاصل ہوسکتا ہے ، تو اس کے متعلق مضمون کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔الا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَيِنُ الْقُلُوبُ اے سکون کے متلاشیوسنو ! تمہیں کہیں طمانیت نہیں ملے گی سوائے اس کے کہ تم اپنے رب کے ذکر میں محو ہو جاؤ اور اللہ کی یاد شروع کر دو۔اب اللہ کی یاد سے کیسے طمانیت حاصل ہو ، اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔قرآن کریم میں اس کی بہت تفصیل ملتی ہے کہ اس سے مراد محض ایک ایسا ذکر نہیں ہے جس کے نتیجہ میں انسان منہ سے اللہ اللہ کہنا شروع کر دے اور پھر سمجھے کہ اس کا دل تسکین پا جائے گا اور طمانیت حاصل کر لے گا بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا فلسفہ کارفرما ہے اور خود قرآن کریم اسے کھول کر بیان فرماتا ہے۔ذکر الہی اور عبادت دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔جب تک انسان خدا کا عہد نہ بنے اس وقت تک اسے ذکر الہی کی توفیق ہی نہیں مل سکتی۔ان دونوں چیزوں کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے۔اس آیت میں وہ ذکر الہی مراد ہے جو عبد کا ذکر ہو یعنی خدا کے ان بندوں کا ذکر ہو جن کو خدا تعالیٰ اپنی اصطلاح میں عبد شمار کرتا ہے۔وہ کن کو شمار کرتا ہے، وہ کون ہیں جو خدا کے عبد بن جاتے اور ذکر الہی کے مستحق بن جاتے ہیں۔وہ کون ہیں کہ جب وہ اس مقام پر فائز ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا ذکر الہی کرنا ان کے لئے موجب تسکین بن جاتا ہے۔ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب یہ مررہے ہوتے ہیں تو بستر مرگ پر ان کو یہ آواز سنائی دیتی ہے۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر ۳۳) (۲۸-۳۱ :