خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد اول 291 ذکر الہی۔طمانیت قلب حاصل کرنے کا قرآنی فلسفہ ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں انسان جتنی مادی ترقی کرتا چلا جارہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ گوانسان کی آسائش کے بھی نئے نئے سامان مہیا ہور ہے ہیں، تاہم انسانی بے چینی ہر دم اور ہر آن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔افراد بھی بے چین ہیں اور خاندان بھی بے چین ہیں۔اور قو میں بھی بے چین ہیں اور (Blocks) بلا کس بھی بے چین ہیں۔مشرق بھی بے چین ہے اور مغرب بھی بے چین ہے۔شمال بھی اور جنوب بھی اور تمام دنیا میں انسان دن بدن زیادہ سے زیادہ شدید تر بے چینی میں بڑھتا جا رہا ہے۔بے چینی اور سکون دونوں کی جنگ تو ابتدائے آفرینش ہی سے جاری ہے اور ہمیشہ سے انسان کو سکون کی تلاش رہی ہے۔لیکن زمانہ میں بعض ادوارا ایسے بھی آتے ہیں جب کہ بے چینی بڑی شدت کے ساتھ غلبہ پا جاتی ہے اور سکون عنقا نظر آتا ہے جس کا ذکر کتابوں میں تو ملتا ہے لیکن یہ حقیقت میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ایسے ہی زمانہ کو قرآنی اصطلاح میں خسر کا زمانہ کہا جاتا ہے۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (اصر (۲۳) زمانہ گواہ ہے اور زمانہ کی بے چینیاں اور