خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد اول 292 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۲ء بے قراریاں گواہ ہیں کہ انسان من حیث المجموع گھاٹے میں مبتلا ہے۔اور گھاٹے کا سودا کر رہا ہے۔ہر تاجر جانتا ہے کہ گھاٹا کوئی تسکین قلب تو نہیں دیا کرتا۔وہ تو دل میں ایک شدید بے چینی پیدا کرتا ہے۔پس جہاں گھاٹے سے مراد کئی قسم کے نقصانات ہیں وہاں اس کا نتیجہ بھی پیش نظر رہنا چاہیئے کہ جب بھی انسان یا زمانہ بحیثیت مجموعی گھاٹے میں مبتلا ہو جائے تو بے چینی کا بڑھنا اس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔جماعت میں سے بھی زمانہ کے ان حالات کا شکار ہو کر بہت سے دوست مجھے دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں اور اپنے دل کی بے چینی کا اظہار کرتے ہیں اور بعض یہ بھی پوچھتے ہیں کہ اس کا علاج کیا ہے۔اور بعض دوست جو زیادہ حساس ہوتے ہیں اور زمانہ کی زیادہ فکر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے لئے بے چین ہوتے ہیں اور ان کے لئے دعاؤں کے خط لکھتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ایک دوست نے خط لکھا کہ زمانہ کی بے چینی سے میں اتنا بے قرار رہتا ہوں کہ میری راتوں کی نیندار گئی ہے۔پس ایسے لوگ بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت کا دل عطا کیا ہے۔اپنے حالات درست بھی ہوں تو ماحول کے دکھ ان کو بے چین کر دیتے ہیں اور حقیقی انسان کا یہی تصور ہے۔آنحضرت ﷺ کو اپنا دکھ تو کوئی نہیں تھا لیکن ساری دنیا کے لئے بے چین تھے۔انسانیت کا یہی وہ اعلیٰ تصور ہے جو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔پس سوال یہ ہے کہ آخر اس بے چینی کا علاج کیا ہے۔قرآن کریم نے اس کا کیا تصور پیش کیا ہے اور مختلف فلسفیوں اور اہل فکر نے اس کا کیا حل تجویز کیا ہے۔صلى الله جہاں تک انسانوں میں سے اہل فکر اور سوچ بچار کرنے والے انسانوں کا تعلق ہے۔ان میں جو گہری نظر رکھتے تھے انہوں نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ انسان اپنی تمناؤں سے آزاد ہو جائے۔ایک ایسا دل پیدا کرے جس میں کوئی خواہش باقی نہ رہے۔اور جب انسان کو یہ حاصل ہو جائے تو لازماً اسے سکون مل جاتا ہے اور طمانیت حاصل ہو جاتی ہے چنانچہ بہت سے مذاہب کی بنیا داسی فلسفہ پر رکھی گئی۔بدھ مت یا جین مت یا اس قسم کے بعض اور بھی مذاہب ہیں جن کا نقطہ ارتکاز یہی ہے۔اسی سے آگے ان کا سارا فلسفہ پھوٹتا ہے یعنی انسان اگر تمناؤں سے آزاد ہو جائے تو اسے تسکین قلب