خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد اول 284 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۸۲ء چنا نچہ قرآن کریم کی وہ آیات جو میں نے شروع میں تلاوت کی تھیں ان میں نماز کو قائم کرنے کا گر بتاتے ہوئے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی مثال پیش کی گئی ہے۔فرماتا ہے: كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيَّان وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيَّان (مریم ۵۵۔۵۲) کہ اسمعیل کی ایک بہت پیاری عادت یہ تھی کہ وہ اپنے اہل کونماز اور زکوۃ کی ادائیگی کی تعلیم دیا کرتا تھا۔اور خدا کو بہت پیارا لگتا تھا كَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا اسکی یہ ادا ئیں اللہ کو بہت پسند تھیں کہ وہ ہمیشہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دیتا تھا۔اس میں یہ نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نمازوں کا قیام اور ان کا استحکام گھروں سے شروع ہوتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأمُرُ اَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ( ۱۳۳۰) کہ اے محمد علی ! تو بھی اپنے اہل کو نماز کا حکم دیا کر۔وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لیکن یہ ایسی بات نہیں ہے کہ ایک دو دفعہ کہنے سے اس پر پوری طرح عمل شروع ہو جائے۔گھروں میں اگلی نسلوں کو نماز کی عادت ڈالنی ہو تو مستقل مزاجی کے ساتھ تلقین کی عادت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ایک دو دفعہ یا ایک دو دن یا ایک دو ماہ یا چند سالوں کا کام نہیں وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے، جب تک تجھ میں طاقت ہے اس عادت پر صبر سے استقامت اختیار کر لے۔اس عادت کو کبھی چھوڑ نا نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب میں ہم نے یہ چیز دیکھی کہ وہ اپنے اہل وعیال کو نمازوں کے متعلق تلقین کیا کرتے تھے۔اور کبھی کسی حالت میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے نماز کی تلقین کرنی چھوڑ دی ہو۔میرے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ جو اپنے بچوں کو نماز کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے تھے وہ با قاعدگی کے ساتھ ایسا کرتے اور کبھی بھی اس طرف سے غافل نہیں ہوئے۔نماز پڑھنے والوں کے بھی اور نماز پڑھانے والوں کے بھی بڑے بڑے پیارے نظارے نظر آیا کرتے تھے۔چنانچہ جن ماں باپ نے اس نصیحت پر عمل کیا اور اپنے گھروں میں نمازوں کی تلقین کو دوام کے ساتھ اختیار کیا، یوں لگتا تھا کہ وہ گھر نمازیوں کی فیکٹریاں بن گئے ہیں اور ان کی نسلوں میں