خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد اول 283 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۸۲ء ہیں۔مسجد میں بھی آباد ہوتی ہیں، وہاں نماز پڑھتے ان کی تصویر میں بھی کھینچی جاتی ہیں۔وہاں بڑے بڑے جبہ پوش بھی پہنچتے ہیں جو اس طرح تکبر سے سوسائٹی میں پھرتے ہیں کہ گویا اب صرف وہی خدا کے ولی اور اس کے فضلوں کے وارث بن چکے ہیں اور انکے سوا کوئی اور عزت کے لائق ہی نہیں رہا۔ایسے لوگوں کا مقصد محض نمائش محض دکھاوا اور محض اپنے نفس کی بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔ایسے نمازیوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ ان کے متعلق فرماتا ہے کہ ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس کے سوا ان کے لیے اور کچھ نہیں۔اور ساتھ ہی ان کی ریا کاری کا ثبوت یہ پیش فرماتا ہے اور ان کی نماز کے بے حقیقت ہونے کی دلیل یہ دیتا ہے وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ کہ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بنی نوع انسان کا حق ادا نہیں کرتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خساست کا نمونہ دکھاتے ہیں۔غریب ان کے سامنے اگر بھوکے مر رہے ہوں تو ان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ ہمسایہ کوئی چھوٹی سی چیز بھی مانگنے کے لیے آجائے تو اس کو رڈ کر دیتے ہیں۔ہمسائیگی کے ادنی حقوق بھی ادا نہیں کر سکتے۔ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اس نماز کا نقشہ کھینچا ہے جو دونوں جہات سے عاری ہے۔نہ حقوق اللہ کو ادا کر رہی ہے اور نہ ہی حقوق العباد کو۔اور در حقیقت یہ ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔یہاں پہنچ کر نماز مجمع البحرین ہو جاتی ہے۔یعنی ایک پہلو سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ حقوق اللہ ہے اور دوسرے پہلو سے یہ حقوق العباد نظر آتی ہے۔تو فرمایا کہ یہ لوگ خدا کی یاد سے غافل ہو کر دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں۔اور جو خالق کی یاد سے غافل ہو کر نماز پڑھے وہ مخلوق کی ضروریات سے بھی غافل ہو جایا کرتا ہے۔وہ مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنے کا اہل نہیں رہتا۔ایسی نماز تو بالکل بیکا ر اور بے فائدہ ہے جو برکتوں اور ثواب کی بجائے لعنتوں کا موجب بن جائے۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنی چاہئے اور یہ حفاظت دوطرح سے کرنی ہوگی۔ایک اس کے ظاہر کی حفاظت کرنی پڑے گی۔اور دوسرے اس روح کی حفاظت کرنی پڑے گی جس کے بغیر نماز باطل ہو جایا کرتی ہے۔ان دونوں پہلوؤں سے، میں سمجھتا ہوں ، توجہ دلانے کی بہت گنجائش موجود ہے۔میں یہ دیکھتا ہوں کہ ربوہ میں نماز کاوہ معیار نہیں رہا جو قادیان میں ہوا کرتا تھا اور گھروں میں وہ تلقین نہیں رہی جس کے نتیجے میں کثرت کے ساتھ نمازی پیدا ہوتے ہیں۔