خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد اول 282 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۸۲ء گیا۔کیونکہ بغیر کسی استحقاق کے بخشش کا تصور مالکیت کے سوا ممکن نہیں۔اور وہ وجود، جو اپنے رب اپنے مالک کے سب سے زیادہ قریب تھا وہ حضوراکرم ﷺ ہی تھے۔پس جتنا زیادہ کوئی عبادت کرتا چلا جائے ، اگر وہ صحیح معنوں میں اور حقیقت میں عبادت کرتا ہے تو اتناہی زیادہ وہ بندوں کے حقوق ادا کر نیوالا بن جاتا ہے اور جتنا زیادہ عبادت سے غافل ہو اتنا ہی غاصب ہوتا چلا جاتا ہے اور اتنا ہی زیادہ وہ سوسائٹی کیلئے دُکھ کا موجب بنتا چلا جاتا ہے۔یہ ہے عبادت کا حقیقی مفہوم جو قرآن کریم پیش کرتا ہے۔اس پہلو سے اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عبادت تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہوں یا حقوق العباد سے تعلق رکھتی ہوں۔اور تمام بدیاں اس سر چشمے سے بے تعلقی کا نام ہے۔جتنا اس سر چشمے سے منہ موڑو گے اور علیحدگی اختیار کرو گے اتنی ہی بدیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔یہ نتیجہ انسانی زندگی کا خلاصہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے عبادت کرنے والے بھی بدیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔بہت سے عبادت کرنے والے بھی ایسے دکھائی دیتے ہیں جو بندوں کے حق چھینتے ہیں اور ان پر ظلم کرتے ہیں اور ان سے رحم اور شفقت کا سلوک کرنے کی بجائے ان سے ظلم اور تعدی کا سلوک کرتے ہیں۔تو یہ کیسی عبادت ہے جس نے ان کو وہ صفات عطا نہیں کیں جو قرآن کریم دعوی کرتا ہے کہ عبادت کرنے والے بندوں میں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔اس مضمون کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ دوسری جگہ ایسے لوگوں کے متعلق فرماتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ) الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ ) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُوْنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ) (الماعون:۷-۵) کیسی عجیب بات ہے کہ سارے قرآن میں نماز اور نمازی کی تعریف ملتی ہے لیکن یہاں پہنچ کر قرآن کریم کے بیان میں اس تعریف سے ایک عجیب انحراف ملتا ہے۔یعنی یہ کہنے کی بجائے کہ ان پر خدا تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں اور سلامتیاں ہوں، قرآن کریم فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ نماز پڑھنے والوں کے لیے ہلاکت ہو۔اور وہ کون سے نماز پڑھنے والے ہیں؟ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمُ سَاهُونَ فرمایا جو نماز کے مفہوم سے غافل ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور نماز کے حقوق ادا کرنے کی بجائے نماز کو دکھاوے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وہ بے شک نمازیں پڑھتے