خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 276

خطبات طاہر جلد اول 276 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء بعد میں نظام سلسلہ سے تعاون نہیں کیا تو اس کو جماعت سے خارج کیا جائے گا ایسے وجود کو ہرگز جماعت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔اور جہاں تک انصاف کی چھری کا تعلق ہے وہ رحم سے عاری ہوا کرتی ہے اور اسی کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔فیصلے کرتے وقت ،مصالحتیں کرتے وقت رحم اور مغفرت اور تعلیمات کا کام ہے وہ جس حد تک کوشش کریں، کریں لیکن جب فیصلے صادر ہو جاتے ہیں تو اس وقت کسی قسم کے رحم کی اجازت نہیں دی جاتی۔دین اللہ میں رافت کو داخل ہونے کی مجال ہی کوئی نہیں یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے۔پس وہ چھری پھر لا زما چلے گی اور وہ چھری جب چلائی جاتی ہے تو چلانے والے کو بھی کاٹتی ہے۔یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں مجھے جو ناحق دکھ آپ پہنچائیں گے اس کے بھی آپ ذمہ دار ہوں گے یعنی آپ پر چھری چلاؤں گا۔میرا دل زخمی ہور ہا ہوگا۔میں دکھ میں مبتلا ہورہا ہوں گا۔ایک مصیبت پڑی ہوگی کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔دکھ اٹھا کر بھی پورے کرنے ہیں۔تو ایسی صورت میں خواہ مخواہ ایک تیسرے شخص کو جس کی آپ نے بیعت کی ہوئی ہے اس کو بھی اپنے عذاب میں مبتلا کر رہے ہوں گے۔پس استغفار کریں ، تقویٰ سے کام لیں اور ان ساری مصیبتوں سے قوم کو نجات بخشیں۔آپ یہ بات یا درکھیں جب تک ہلکے پھلکے قدموں کے ساتھ ہم آگے بڑھنے کے اہل نہیں ہوتے ترقیات ہمیں نصیب نہیں ہوسکتیں۔پھر بعض گھریلو جھگڑے ہیں جنہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔بعض مرد اپنی عورتوں پر ظلم کر رہے ہیں۔گندی زبان استعمال کرتے ہیں۔اپنی بیویوں پر بدظنی کرتے ہیں اور ان پر بے ہودہ اور نا پاک الزام لگاتے ہیں اور اس میں کوئی شرم اور حیا محسوس نہیں کرتے اور کوئی خوف نہیں کھاتے کہ وہ اپنے معاشرہ کو کس طرح دکھ پہنچا رہے ہیں۔وہ اپنی بیویوں کے حقوق پر حقوق مارتے چلے جاتے ہیں۔پھر جب چاہتے ہیں ردی کپڑے کی طرح ان کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔وہ بچے پالتی ہیں۔وہ سلائیاں کرتی ہیں اور طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہوتی ہیں۔ایسے مردوں میں انسانیت کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہوتا۔وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ انہوں نے کس آرام سے اپنے بوجھ عورت پر ڈالے اور اس کو تسکین کا ذریعہ بنایا اور جب ذمہ داریاں پیدا ہو گئیں تو ساری ذمہ داریاں بھی اس پر ڈال دیں۔نو مہینے اس نے مصیبت سے اپنا خون دے کر، اپنی ہڈیاں دے کر، اپنا دماغ دے کر، اپنی