خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد اول 271 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۸۲ء غرض امر واقعہ یہ ہے کہ قضا کا فیصلہ ہو یا ثالث کا فیصلہ ہو یہ بالکل ایک الگ چیز ہے۔یہ طریقے تو نظام کے اندر آرڈر پیدا کرنے کے لئے ہیں تا کہ کسی طریق سے آخر جھگڑے نپیٹیں اور سوسائٹی ہلکی پھلکی ہو کر آگے کی طرف بڑھنا شروع کرے لیکن ان فیصلوں کے باوجود یہ امر اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور عذاب کو مستلزم ہوتا ہے کہ ان جھگڑوں کے دوران بعض فریق نے جھوٹ بولا ، بعض نے ظلم سے کام لیا، بعض نے تعدی کی بعض نے دست درازیاں کی ہیں اور اس کے نتیجہ میں سوسائٹی کو ایک دکھ پہنچا ہے۔اور اگر ایسا کرنے والے اس چیز سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ (الحديد: ۲۱) کہ آخرت میں ان کے لئے عذاب شدید ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس آخرت سے مراد اس دنیا کا انجام بھی ہے۔کیونکہ آخرت کے محاورہ سے یہ قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان جس انجام کو پہنچا ہے اس کے لیے بھی آخرت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اسی دنیا میں بسنے والوں کے لئے بھی اخرین کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دوسری دنیا کے لئے آخرت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔پس یہ جو خرابیاں ہیں اگر ان کی اصلاح نہ کی جائے تو سارے معاشرہ کو عذاب میں مبتلا کر دیتی ہیں۔آپ قتل و غارت کی جو خبریں سنتے ہیں۔بعض زندہ لوگوں کی آنکھیں نکال دی گئیں۔جائیداد کے بعض جھگڑوں میں معصوم بچے ذبح کئے گئے اس لئے کہ وہ بڑے ہو کر جائیداد کا مطالبہ نہ کر سکیں اور پھر اس کے نتیجہ میں معاشرہ پر عاید ہونے والے دیگر مظالم اور انتقام در انتقام کی دیگر کارروائیوں کی وجہ سے بعض گھر کے گھر اجڑ گئے ہیں اور بڑے بڑے خاندان تباہ ہو گئے ہیں اور بعض علاقوں کے علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔ایک یہ عذاب شدید ہے جسے وہ دیکھتے ہیں۔پھر اس قسم کی ناجائز کمائی کے ذریعہ روپیہ ہتھیانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ان لوگوں کی زندگیاں چین میں نہیں کٹتیں نہ ان کے مقدر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان لکھا جاتا ہے نہایت حسرت کی حالت میں ساری عمر کے جھگڑوں میں مبتلا ہو کر کوئی ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہو کر اور کوئی کسی اور طریق سے آخر مر جاتا ہے۔کچھ حاصل بھی کر لے تو اس کو چین نصیب نہیں ہوتا۔اس کے گھروں میں بیماریاں پڑ جاتی ہیں۔اور سوطریق پر اللہ تعالیٰ اس چین کو چھین لیتا ہے جسے وہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ میں مبتلا ہوتا ہے۔کبر میں مبتلا ہوتا ہے۔انانیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ہزار قسم کی بدیوں کے