خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 270

خطبات طاہر جلد اول 270 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء میں داخل ہو گئے ہیں۔لیکن جب اس سے آگے چلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر بعض جھگڑالو لوگوں میں تقویٰ میں کمی ہے۔بنیادی طور پر ان میں سچائی کی کمی ہے۔کیونکہ اگر پورا تقوی موجود ہو اور سچائی کی عادت ہو تو کسی قسم کے اختلاف میں بھی تلخی نہیں ہوسکتی۔اگر ایسی غلطی صرف ایک فریق سے ہوتی ہے تو دوسرا فریق اللہ تعالیٰ کے حضور ضرور بری الذمہ ہوگا۔مگر بعض معاملات جو میرے سامنے آتے ہیں ان میں بدقسمتی سے اکثر دونوں طرف ہی تقویٰ کی کمی کے آثار ملتے ہیں۔اگر تو یہ صورت حال ہو کہ جماعت کے تمام جھگڑوں میں ایک فریق کلیۂ پاک وصاف ہو، متقی ہو اور دوسرے فریق ہی کی وجہ سے ساری شرارت ہو پھر کم سے کم اتنی تسلی تو ہو جاتی ہے کہ ہم میں سے نصف اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل ٹھیک اور پاک ہیں۔لیکن اگر دوسری طرف بھی لالچ اور حرص و ہوا اور گندگی اور جھوٹ کی کچھ ملونی پائی جائے تو پھر تو ساری جماعت کے جھگڑے کرنے والوں کے اندر یہ بد بختی داخل سمجھی جائے گی۔یہ درست ہے کہ ایسے جھگڑے کرنے والے نسبتاً بہت کم ہیں۔یہ درست ہے کہ جتنے جھگڑے کرنے والے ہیں ان میں سے سامنے صرف وہی آتے ہیں جن میں اختلاف اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔لیکن جتنے آتے ہیں ان کے اندر یہ منظر ہمیں ضرور ملتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وراثت کے جھگڑے ہوں، اشتراک کے جھگڑے ہوں، یہ جتنے بھی جھگڑے ہیں ان میں جیسا کہ میں نے پچھلی آیت میں واضح کیا تھا آپ کے لئے دو ہی طریق ہیں یا تو عذاب شدید اپنے لئے حاصل کر لیں اور یا مغفرت اور رضوان کی طرف قدم اٹھائیں تیسری کوئی راہ قرآن کریم نے بیان نہیں کی۔اگر آپ یہ سمجھیں کہ ان جھگڑوں کے نتیجہ میں آپ کو کچھ حاصل ہو جائے گا یا جھوٹ بولنے کے نتیجہ میں یا چرب زبانی کے نتیجہ میں کسی دوسرے کی جائیداد کا حق ایک فریق لے لے گا تو اس کے متعلق تو اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نارا (النساء:1) وہ تو آگ کھاتے ہیں۔آنحضرت علی نے فرمایا کہ اگر ایک چرب زبان و جھگڑے کو اس رنگ میں پیش کرتا ہے اور واقعات کی اس طرح تلبیس کر دیتا ہے کہ میں اس پیش کردہ صورت حال کے پیش نظر غاصب کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہوں اور مظلوم کی چیز غاصب کو دلوا دیتا ہوں تو فر ما یاوہ یہ نہ سمجھے کہ میرے فیصلہ کے نتیجہ میں اسے کوئی نعمت مل گئی ہے اس فیصلہ کے نتیجہ میں وہ آگ خریدتا ہے اور آگ کا ٹکڑا اپنے پیٹ کے لئے پال رہا ہے اس سے زیادہ اسے کچھ بھی نصیب نہیں ہوا۔