خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد اول 266 نہ نیکیوں کی راہوں کو اختیار کر سکتی ہے۔ دنیا کی وہی کیفیت ہوتی ہے کہ: ه جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد پر طبیعت ادھر آتی نہیں ( دیوان غالب ) خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ء یعنی مجھے تم کیا بتاتے ہو کہ بدی کی راہ کیا ہے اور نیکی کی راہ کیا ہے مجھے اس بات کا علم تو ہے لیکن طبیعت ادھر نہیں آتی۔ اب دنیا میں جتنے بھی Drug Addicts یعنی خطرناک نشوں کے عادی لوگ ہیں جو لاکھوں، کروڑوں ، اربوں روپیہ ایسی زہریلی دواؤں پر خرچ کر رہے ہیں جن سے وقتی طور پر ان کو خمار آجاتا ہے مستی آجاتی ہے۔ بعض دفعہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہلکے پھلکے ہو گئے ہیں اور اوپر اڑ رہے ہیں ۔ س قسم کی وقتی اور آنی جانی کیفیات ہیں جو وہ اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔ ان کو یہ خوب علم ہے کہ ان لوگوں کا کتنا خطرناک انجام ہوتا ہے ۔ یا وہ پاگل ہو کر مر جاتے ہیں یا ہزار قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ان کے اعصاب ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ دوائیاں ان کو نہیں مل سکتیں پھر وہ جرائم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے بھیانک جرائم کرتے ہیں کہ کسی طرح وہ دوائی حاصل ہو جائے ۔ یہ تو نہیں کہ ان کو علم نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں پر طبیعت ادھر نہیں آتی ۔ طبیعت میں جو کجی پیدا ہو جاتی ہے یا بدی کی لذت پیدا ہو جاتی ہے وہ لذت ان کو برائیوں پر مجبور کرتی رہتی ہے۔ علي جماعت احمد یہ کو اس آیت نے یہ مضمون سکھایا کہ حضرت محمد مصطفے یا محض تعلیم کی حد تک نہیں رہے بلکہ ایک پاک نمونہ قائم کیا اور اس قوت قدسیہ سے کام لیا جو پاک نمونہ اور دعاؤں کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے جب آسمان سے دعا کی قبولیت ہوتی ہے اور پاک نمونہ انسانی اعمال کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہوتا ہے تو اس امتزاج کے نتیجہ میں ایک تیسری قوت پیدا ہو جاتی ہے جس کو قوت قدسیہ کہا جاتا ہے اس قوت قدسیہ کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوئی نہ پیدا ہو سکتی ہے۔ تمام دنیا میں مختلف مذاہب آئے ، ان کے اندر پاک تعلیمات موجود ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اسلام کے مقابل پر ان کی کوئی حالت نہیں ۔ وہ بہت ادنی ، بہت کمزور اور ناقص تعلیم رکھنے والے مذاہب ہیں لیکن جتنے بھی ہیں ان میں نہایت پاکیزہ تعلیمات بھی موجود ہیں ۔ مثلاً دنیا میں شاید ہی کوئی مذہب ہو یعنی آج کی دنیا میں بگڑی ہوئی شکل میں بھی شاید ہی کوئی مذہب ہو جس نے جھوٹ کی