خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد اول 265 خطبه جمعه ۱۲ / نومبر ۱۹۸۲ء نقشہ کھینچا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی مساعی محض تعلیم کی حد تک نہیں کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ جہاں بوجھ اترنے کا سوال ہے یعنی وہ گندی عادتیں، وہ بدیاں جو انسان کو چھٹ جاتی ہیں ، وہ محض تعلیم سے دور نہیں ہوا کرتیں حضرت محمد مصطفے ﷺ نے خود وہ عادات دور کروائی ہیں۔کس طرح دور کروائیں اس مضمون کو قرآن کریم کئی دوسری جگہ بیان فرمارہا ہے۔دعاؤں کے ذریعہ، اپنے پاک نمونہ کے ذریعہ، اپنی قوت قدسیہ کے ذریعہ جو دعا اور پاک نمونہ سے الگ ایک تیسری چیز ہے۔یہ ایک ایسی روحانی قوت ہے جو نیک بندہ کو عطا کی جاتی ہے اور براہ راست اصلاح کرتی ہے جیسا کہ فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ التِهِ وَيُزَكِّيهِم ( الجمعة (۳) یعنی تعلیم و حکمت کتاب تو بعد کی باتیں ہیں یہ خدا تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ان کا تزکیہ نفس شروع کر دیتا ہے تو یہاں ضمیر يَضَعُ عَنْهُمْ اصْرَهُمْ کی اُن لوگوں کی طرف نہیں پھیری جن پر بوجھ پڑے ہوئے ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم سے مستفید ہو کر اپنے بوجھ اتار پھینکتے ہیں۔یہ نہیں فرمایا گیا۔فرمایا محمد مصطفے عملہ نیکیوں اور بدیوں کی را ہوں کو خوب کھولنے کے بعد پھر اپنے ماننے والوں کی مددفرماتے ہیں اور اپنی طرف سے اپنی کوشش اور جدو جہد سے ان کو پاک کرتے ہیں۔اس موقع پر بجلی کی رو بند ہو جانے پر جنریٹر چلانے میں تاخیر ہوگئی حضور نے محترم ناظر صاحب اصلاح وارشاد کو یہ ہدایت فرمائی کہ نیا بیری سسٹم فوری جاری کریں اور بجلی کی روبند ہو جانے پر یہ متبادل انتظام فوری طور پر عمل میں آجایا کرے تا کہ جماعت کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ناقل ) پس يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ میں جو نقشہ کھینچا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کتاب کے بعد اور اس کی حکمتیں بیان فرمانے کے بعد آنحضور ﷺ اپنی قوت قدسیہ کے ساتھ اور ذاتی مساعی کے نتیجہ میں قوم کو ان مصیبتوں سے نجات بخش رہے ہیں جن مصیبتوں میں وہ قوم خود صدیوں سے مبتلا ہے ، اور یہ پہلو بہت ہی عظیم الشان حکمت کا پہلو ہے جو تمام مربیان کے لئے اختیار کرنا ضروری ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی اصلاح کے لئے مقرر کئے گئے ہیں تو ہر گز یہ مراد نہیں ہے کہ دنیا کو صرف اس کی نیکیوں اور اس کی بدیوں کی راہوں سے آگاہ کر دیں اور پھر بے نیاز ہو کر بیٹھ جائیں کیونکہ دنیا کو نیکیوں اور بدیوں کی راہیں معلوم بھی ہوں تو وہ نہ بدیوں کی راہوں سے بچ سکتی ہے