خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 23
خطبات طاہر جلد اول 23 23 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء خانہ کعبہ کی عمارت کو اٹھاتے ہوئے آنحضرت سید ولد آدم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو دعائیں کیں وہ ہزاروں سال بعد میں پیدا ہونے والے ایک بچہ ہی کیلئے تو دعا تھی۔پس صرف یہی نہیں کہ اپنی اس اولا د کیلئے دعائیں کریں جو آپ کے سامنے حاضر کےطور پر پیش ہو چکی ہو بلکہ اس اولاد کیلئے بھی دعائیں کریں جس کا کوئی وجود بھی نہیں بنا۔اس اولاد کے لئے بھی دعائیں کریں جو نسلاً بعد نسل پیدا ہوتی چلی جائے گی اور قیامت تک آپ کی ذریت کے طور پر دنیا میں باقی رہے گی۔تو ان سب کے لئے تقویٰ کی دعا کو اولیت دیں اور سب سے زیادہ اسی دعا کی طرف توجہ کریں۔دوسری بات میں یہ بیان کرنی چاہتا ہوں کہ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا میں اسلامی نظریۂ قیادت پیش کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام میں قیادت اور سرداری کا تصور دنیا کی دوسری قوموں کے قیادت اور سرداری کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔محض قوموں کی سرداری عطا ہو جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اگر فاسقوں، بدکاروں، بے عمل لوگوں کی سرداری نصیب ہوتو وہ سرداری بجائے فخر کے ایک لعنت بن جاتی ہے۔چنانچہ فرعون کو جس قوم کی سرداری نصیب ہوئی وہ اس کے لئے بھی لعنت تھی اور قوم کے لئے وہ سرداری لعنت بن گئی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سرداری کو اہمیت محض تقویٰ کے اوپر ہے۔اگر متقی لوگ تمہارے پیچھے ہوں گے ، اگر متقی لوگ تمہارے پیرو کار بنیں گے تو اس سرداری کو قابل توجہ قابل فخر ، قابل فخر تو نہیں کہہ سکتے مگر اس لائق ہے کہ اللہ کے حضور دعائیں کر کے ایسی سرداری حاصل کی جائے۔یہی سرداری ہے جس کی دنیا و آخرت میں اللہ کی نظر میں کوئی قیمت ہے۔اس کے سوا سیادت اور قیادت کے کوئی بھی معنے نہیں۔پس اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو خلافت احمدیہ کی طاقت کا راز دو باتوں میں ہے۔ایک خلیفہ وقت کے اپنے تقویٰ میں اور ایک جماعت احمدیہ کے مجموعی تقویٰ میں۔جماعت کا جتنا تقویٰ من حیث الجماعت بڑھے گا احمدیت میں اتنی ہی زیادہ عظمت اور قوت پیدا ہوگی۔خلیفہ وقت کا ذاتی تقویٰ جتنا ترقی کرے گا اتنی ہی اچھی سیادت اور قیادت جماعت کو نصیب ہوگی۔یہ دونوں چیزیں بیک وقت ایک ہی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ترقی کرتی ہیں۔پس ہماری دعا ہونی چاہئے۔آپ کی میرے لئے اور میری آپ کے لئے ، آپ اپنے