خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد اول 22 22 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء دوسرے کو اس دعا کی درخواست کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری اولا دکو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل قدر آنکھوں کی ٹھنڈک ، آنکھوں کی حقیقی ٹھنڈک، آنکھوں کی وہ ٹھنڈک جو دراصل ذکر کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ اولا ومتقی بن جائے۔اور کسی کو اس سے زیادہ آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی اولاد کو متقی دیکھ لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے بے ساختہ اور پیارے انداز میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ایک دعا کی شکل میں اپنے رب کے حضور عرض کرتے ہیں ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آئے وقت میری واپسی کا ( در مشین) کراے میرے آقا! آخری نگاہ جو میری اپنی اولاد پر پڑ رہی ہو وہ ایسی ہو کہ میں ان کو متقی حالت میں دیکھ کر دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔سب سے زیادہ معراج آنکھوں کی ٹھنڈک کا اس وقت انسان چاہتا ہے جب وہ زندگی کے انجام تک پہنچ کر آخری نگاہیں ڈال رہا ہوتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا خلاصہ یوں بیان فرمایا: یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آئے وقت میری واپسی کا ( در مشین) پس سب سے پہلے تو جماعت احمدیہ کو خصوصیت کے ساتھ اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ ہم لوگ نیک اولا د پیچھے چھوڑ کر جانے والے بنیں۔فاسق اور بد اولا د پیچھے چھوڑ کر جانے والے نہ بنیں۔اور یہ چیز دعا کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ نصیحت دعا ہی کے رنگ میں ہمیں سکھائی گئی ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ دعائیں کرو گے تو اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کر سکو گے۔اگر محض اپنی تر بیتوں پر انحصار کرو گے یا اپنی کوششوں پر بھروسہ کرو گے تو یہ اعلیٰ مقصد تمہیں نصیب نہیں ہوگا۔پس بہت دعا کرنی چاہئے اپنی اولاد کیلئے۔اور دعا صرف بچوں کی پیدائش کے بعد ہی نہیں، پیدائش سے پہلے بھی کرنی چاہئے۔بعض دفعہ تو انبیاء نے ایسی دعائیں کیں کہ سینکڑوں سال بلکہ ہزاروں سال بعد آنے والوں کیلئے بھی انہوں نے دعائیں کیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے