خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد اول 254 خطبه جمعه ۵ نومبر ۱۹۸۲ء مزدور جوان دنوں دو روپے دہاڑی کمایا کرتے تھے ، یعنی دوروپے یومیہ ان کی مزدوری تھی انہوں نے اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑا یعنی تمیں روپے چندہ لکھوایا۔ایک اور صاحب تھے وہ بھی غریب اور کمزور حال تھے۔انہوں نے دس روپے چندہ لکھوایا۔تو قربانی کرنے والوں کا یہ حال تھا۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تعلق ہے وہ فضل ان لوگوں پر بارش کی طرح اس طرح بر سے ہیں کہ ان پر نگاہ پڑتی ہے تو قربانیاں کہتے ہوئے بھی شرم آنے لگتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان خاندانوں کی کایا پلٹ دی۔ان کی نسلوں کے رنگ بدل گئے خدا نے ایسے فضل نازل فرمائے کہ پہچانے نہیں جاتے کہ یہ کون سے خاندان تھے ، کس حالت میں رہا کرتے تھے اور کس تنگی ترشی میں گزارہ کیا کرتے تھے۔وہ مزدور جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اور جس نے تمہیں روپے سے اپنے چندے کا آغاز کیا تھا، آج ان کا چندہ تین ہزار پانچ سو روپے سالا نہ ہے اور وہ مزدور جس نے دس روپے سے اپنے چندے کا آغاز کیا تھا آج اس کا چندہ ۵۰۰۰ ہزار روپے سالانہ ہے اور وہ بچہ جس نے پانچ روپے کے ساتھ اپنے چندے کا آغاز کیا تھا، گزشتہ سال اس کا چندہ پانچ ہزار روپے سالانہ سے زائد تھا۔پس ہر عمر کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا، ہر طبقے کے لوگوں کو اپنے فضل سے نوازا۔روحانی لحاظ سے بھی ان لوگوں نے بہت ترقیات حاصل کیں اور دنیوی لحاظ سے بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے اور ان کی اولادوں نے بھی ان کی قربانیوں کا اتنا پھل کھایا کہ سیری کے مقام تک پہنچ گئے اور وہ فضل ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے۔وہ ایک نسل سے تعلق رکھنے والے فضل نہیں ہیں بلکہ وہ دوسری نسل میں بھی جاری ہیں، تیسری نسل میں بھی جاری ہیں اور یہ معاملہ آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔زمانے کے لحاظ سے بھی لمبا ہورہا ہے اور وسعت کے لحاظ سے بھی پھیلتا جارہا ہے۔یه دفتر اول دس سال تک بلا شرکت غیر جاری رہا۔یعنی ۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۴ء تک کوئی اور دفتر اس کا رقیب نہیں تھا۔جو لوگ بعد میں شامل ہوئے وہ بھی اس دفتر میں شامل ہوتے تھے۔لیکن ۱۹۴۴ء میں ایک نئے دفتر کا آغاز ہوا جسے دفتر دوم کہا جاتا ہے۔دفتر دوم کے جاری ہونے کے بعد دفتر اول میں داخلے کے رستے بند ہو گئے اور نکلنے کے رستے جاری رہے۔یعنی پانچ ہزار یا اس سے کچھ زائد چند ه دهندگان جو دفتر اول میں شامل تھے، ان کو اللہ کی تقدیر بلاتی رہی اور وہ اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے اس لئے اس دفتر میں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھانے کے رستے بند