خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 253

خطبات طاہر جلد اول 253 خطبه جمعه ۵ رنومبر ۱۹۸۲ء اجازت دی جائے کہ اس چندے کو کم کر دیں۔بلکہ خود حضرت مصلح موعود نے پیشکش فرمائی کہ اگر کسی نے غلط فہمی سے اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ لکھوا دیا ہے تو اس کو کم کروانے کی اجازت ہے۔یہ درخواستیں تو موصول ہوئیں کہ حضور! ہمیں یہ چندہ اسی طرح ادا کرنے کی اجازت دی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس عہد پر قائم رہیں ،لیکن کوئی یہ درخواست نہیں آئی کہ ہمارے چندے کو کم کر دیا جائے۔بعد میں جب یہ بات اور کھل گئی کہ یہ تحریک تین سال کے لئے نہیں بلکہ ایک مستقل اور ایسی عظیم الشان تحریک بنے والی ہے جس کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچنی تھی اور جس کے نتیجے میں حضرت مصلح موعودؓ نے زمین کے کناروں تک شہرت پانی تھی۔تب بھی کوئی پیچھے نہیں ہٹا ، بلکہ قربانیوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔بزرگوں کا بھی یہی عالم تھا۔امیروں کا بھی یہی عالم تھا۔متوسط طبقے کے لوگ جو سلسلے کے کاموں سے براہ راست متعلق نہیں تھے ان کی بھی یہی کیفیت تھی اور غرباء کی بھی یہی کیفیت تھی۔تمام جماعت کے ہر طبقے نے قربانی میں ایک ساتھ قدم اٹھایا ہے۔اور آج جب ہم اعداد و شمار پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ان کے تجزیے سے ہر گز یہ بات سامنے نہیں آتی کہ کسی طبقے نے زیادہ قربانی کی تھی اور کسی نے کم۔امراء نے اپنی توفیق کے مطابق بہت بڑے بڑے قدم اٹھائے۔بڑی بلند ہمتوں کے ساتھ ( دعووں کے ساتھ نہیں ) وعدے لکھوائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو پورا کیا۔اسی طرح غرباء اپنی توفیق کے مطابق، بلکہ توفیق سے بڑھ کر اس میں شامل ہوئے۔جوش اور ولولے کا یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ جب حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان فرمایا کرتے تھے تو جو لوگ سب سے پہلے دفتر تحریک جدید میں پہنچ کر اپنے چندے لکھواتے تھے ان میں دو دوست پیش پیش تھے۔ایک کا نام محمد رمضان صاحب تھا جو مدد گار کارکن تھے اور دوسرے کا نام محمد بوٹا ” تانگے والا تھا۔جب تک وہ زندہ رہے ایک سال بھی اس بات میں پیچھے نہیں رہے۔خدا نے ان کو جتنی توفیق بخشی تھی اس کے مطابق وہ لکھواتے تھے اور ادا ئیگی میں بھی السابقون میں شامل ہوتے تھے۔اور وہ لوگ جو سب سے پہلے پرائیویٹ سیکرٹری کے باہر ا نتظام کر رہے ہوتے تھے (اس زمانے میں لوگ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں پہنچا کرتے تھے ) ان میں یہ دونوں دوست پیش پیش ہوتے تھے۔مزدوروں کا یہ عالم تھا کہ سیالکوٹ کے ایک