خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 246
خطبات طاہر جلد اول 246 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء دیکھا یعنی ایک تو پیشگوئی ہے۔ایک اس کا وہ اظہار ہے جو رویا کی صورت میں حضرت مصلح موعود پر کیا گیا۔اس میں یہ بھی بیان ہے کہ میں آگے نکل جاتا ہوں اور جماعت پیچھے رہ جاتی ہے۔تو یہ جو تحریکات تھیں ان کے ساتھ جو عملاً واقعہ ہوا ہے اس میں ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے کہ بیشمار تحریکات ہیں اور بڑی عظیم الشان تحریکات ہیں جن میں حضرت مصلح موعودؓ آگے نکل گئے اور جماعت پیچھے رہ گئی۔ہمیں واپس لوٹ کر ان کو وہیں سے اٹھانا ہے اور لے کر آگے بڑھنا ہے۔ان میں یہ تحریکات بھی ہیں کہ غربا کو صنعتیں سکھائی جائیں ایسے دوسرے کام دیے جائیں کہ جس کے نتیجہ میں خود اعتمادی اور شرف انسانیت قائم ہو اور وہ سوسائٹی کا وہ حصہ بنیں جو عطا کرنے والا حصہ ہوتا ہے وصول کرنے والا نہیں ہوتا۔پس اس پہلو سے ہمیں بہت سے کام کرنے ہیں لیکن اس کام کی اول ذمہ داری امور عامہ پر عاید ہوتی ہے۔امور عامہ صرف محاسبہ کا نام نہیں ہے یا تنفیذ کا نام نہیں ہے۔یہ ایک غلط تصور پیدا ہوگیا ہے۔محاسبہ اور تنفیذ امور عامہ کے بیشمار کاموں میں سے ایک بہت معمولی اور چھوٹا سا کام تھا جس نے پھیلتے پھیلتے آخر دوسرے کاموں کو باہر نکال دیا جس طرح اونٹ کے متعلق آتا ہے کہ ایک صحرا میں جب رات کو بہت سردی ہوئی تو اونٹ نے تھوڑا سا سر خیمہ میں داخل کرنے کی اپنے مالک کی اجازت چاہی کہانی میں تو جانور بول لیتے ہیں۔یہ ظاہری دنیا کا کوئی اصل واقعہ نہیں ہے ) تو اونٹ نے تھوڑی سی تھوتھنی اندر کر کے کہا۔اے میرے مالک! بہت ہی سردی ہو گئی ہے مجھے اجازت دو۔میں تھوتھنی اندر کر لوں۔اس نے کہا ٹھیک ہے کر لو۔پھر اس نے کہا باقی سر بچارے کا کیا قصور ہے تھوڑی سی اجازت ہو تو میں وہ بھی اندر کرلوں۔چنانچہ وہ سر بھی اندر آ گیا۔پھر وہ گردن آئی۔پھر وہ انگلی ٹانگیں آئیں۔پھر جسم۔پھر دم یہاں تک کہ مالک باہر تھا اور اونٹ اندر تھا۔امور عامہ سے بھی کچھ اس قسم کا واقعہ ہو گیا ہے کہ مالک تو باہر پڑا ہوا ہے اور اونٹ اندر آ گیا ہے۔اس لیے اونٹ کو واپس باہر جانا پڑے گا۔یا کم سے کم اونٹ کا اتنا ساحق ادا کرنا پڑے گا جو مالک پر عاید ہوتا ہے۔تنفیذ اور محاسبہ امور عامہ کے فرائض میں داخل ہے۔یہ کام تو اُسے کرنا ہے لیکن ادنی کام کے طور پر کرنا ہے، اپنے مقاصد میں سے اعلیٰ حصہ کے طور پر نہیں کرنا۔امور عامہ کے مقاصد کے اعلیٰ حصوں میں غریبوں کی پرورش، ان کے حقوق کی خبر گیری، ان کے لیے