خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد اول 239 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء اعمال میں جاری کرنا بالکل اور چیز ہے۔وہ کہ تو دیتا ہے اللہ رحمان ہے مگر خود بندوں کے لیے رحمان بننا ایک بہت بڑا کام ہے اتنا عظیم الشان کام ہے کہ قدم قدم پر انسان کے سامنے یہ امتحان آتا ہے اور اس میں فیل ہوتا چلا جاتا ہے۔منہ سے رحمان کی تعریف کرتا ہے ، دل سے محسوس کرتا ہے کہ ہاں وہ بہت ہی پیاری چیز ہے مگر جب ایک رستہ اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو رحمانیت کا رستہ چھوڑ کر غضب کا رستہ اختیار کر لیتا ہے۔ایسے شخص کے متعلق ہم یہ کس طرح توقع کر سکتے ہیں کہ وہ مالک یوم الدین تک رحمانیت کی راہ سے پہنچے گا۔اس نے تو خود اپنی آزمائشوں کے وقت میں رحمانیت کی راہ ترک کی اور مغضوبیت کی راہ اختیار کر لی۔یہی رحیمیت کا حال ہے۔رحیمیت کی راہ اختیار کرنے کی بجائے انسان ہمیشہ تو نہیں مگر اکثر صورتوں میں ایسی راہ اختیار کرتا ہے کہ بندوں سے ان کے اعمال کے مطابق رحمت کا سلوک نہیں کرتا۔مزدور کی مزدوری مارنے والے لوگ حق سے کم ادا کرنے والے لوگ سارے وہ لوگ ہیں جو ضالین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔مغربی قوموں نے جو Exploitation یعنی استحصال سے کام لیا ہے، یہ رحیمیت کا عملی انکار ہے۔تمام دنیا میں Capitalists نے جو Exploitation کی ہے اس کے نتیجہ میں پھر آگے اشتراکیت نے جنم لیا ہے۔یہ وہی ضالین کی راہ ہے جو رحیمیت کے انکار کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ادنیٰ قوموں سے محنتیں لیں ، کام لیے اور ان کو ان کے بدلے پورے نہیں دیئے اور وہ ان غریب قوموں کا جو جائز حق کھا گئے یہی استحصال ہے۔اسی کے نتیجہ میں پھر دنیا میں بڑی بڑی تباہیاں آئی ہیں اور آفتیں ٹوٹی ہیں۔پس ضالین کی راہ جو عیسائیت نے اختیار کی وہ بھی صرف نظریاتی نہ رہی بلکہ عملی شکل میں ڈھل گئی۔اقتصادی نظام کی شکل میں بھی ڈھل گئی۔معاشرہ میں بھی ڈھل گئی۔تمدن میں بھی ڈھل گئی ملوکیت میں بھی ڈھل گئی۔ہر چیز پر اثر انداز ہوگئی تو یہ جو رحیمیت کی راہ کو چھوڑ کر خدا تک پہنچیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہی ضآلین کہلائیں گے اور ان رستوں کو چھوڑنے کے نتیجہ میں دُنیا اور آخرت میں سخت بدانجام کو پہنچیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے بجلی ایک قوت کا نام ہے اس کے بھی سفر کے