خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد اول 235 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء کلیۂ مبرا ہونا بالکل وہی چیز ہے جس کو سورہ فاتحہ نے مالک یوم الدین کے حضور حاضر ہونے کا نام دیا ہے یعنی ایسی ذات کی طرف لوٹ جانا کہ جب کسی چیز کی کوئی بھی ذاتی صفت باقی نہیں رہے گی۔خدا ہر چیز کا مالک ہوگا اور مخلوق اپنی تمام ذاتی ملکتوں اور ذاتی صفات سے عاری ہو جائے گی۔گویا اپنے آغاز کی طرف لوٹ جائے گی اور اسی کا نام عدم ہے۔بغیر صفت کے کسی کا وجود تصور ہی نہیں ہوسکتا۔اسی لئے سائنسدان کہتے ہیں کہ عدم کی تعریف ہی یہ ہے کہ کوئی چیز صفات سے کلیہ عاری ہو جائے۔وہ کہاں لوٹتی ہے، اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جان سکتے۔وہ شکست کو تسلیم کرتے ہیں اور خواہ انسان اپنی تحقیقات میں کتنی بھی مزید ترقی کرے وہ تصور کر ہی نہیں سکتا کیونکہ حقیقت میں یہ سب چیزیں اپنے رب کی طرف لوٹتی ہیں۔اسی طرح جاندار اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں۔اسی طرح انسان اپنے رب کی طرف لوٹتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ یہی ہے کہ ہر چیز نے بالآخر ، جب بھی وہ تخلیق کا جامہ پہنتی ہے ، سفر کرتے ہوئے ایک منزل تک پہنچنا ہے جو اس کے خالق یعنی مالک یوم الدین کی منزل ہے۔گویا دنیا میں جب بھی کوئی چیز پیدا ہوتی ہے وہ معا ایک سفر شروع کر دیتی ہے اور وہ سفر بالآخر خدا کی ذات پر اس طرح منتج ہوتا ہے کہ وہ مالک یوم الدین ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی صفات خلقیت سے کلی طور پر عاری ہو کر پہنچتی ہے۔اس سفر کے دور ستے ہیں۔سورہ فاتحہ کی پہلی تین آیات نے اس سفر کا نقشہ تفصیل سے کھینچا ہے گو مختصر ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو حیرت انگیز تفصیل ان چند الفاظ میں ملتی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اے بنی نوع انسان تم نے بھی آخر وہیں پہنچنا ہے۔اس لئے صراط مستقیم کی وہ راہ اختیار کر و جوجد کے دروازہ سے شروع ہوتی ہے۔حمد باری تعالیٰ سے تم اس سفر میں داخل ہو گے تو پہلے تمہیں ربوبیت نظر آئے گی۔یعنی ہر ادنی چیز کا اعلیٰ حالت میں تبدیل ہوتے رہنا۔اور یہ حالت کلیہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ وقدرت میں ہے۔اس کے ہر نظام میں تم ربوبیت کا نظام دیکھو گے۔ہر چیز جو پیدا ہوتی ہے معا ایک سفر شروع کر دیتی ہے۔کوئی چیز بھی ٹھہراؤ کی حالت میں نہیں ملتی۔اس ربوبیت کی حمد کرتے ہوئے تم یہ معلوم کرو گے کہ اگر چہ آغاز میں بھی رحمانیت اور رحیمیت کا دور تھا یعنی جس کی