خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد اول 225 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء لوگ جو خدا سے غافل ہو کر ان چیزوں کی پیروی کرتے ہیں ان کی زندگی ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہتی ہے اور بالآخر یہ عذاب بڑھتا رہتا ہے اور قومی لحاظ سے بھی شدید عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔تو آخرت سے اس دنیا کا انجام بھی مراد ہے اور اس دنیا کے بعد اگلی دنیا میں جو کچھ پیش آنا ہے اس کا بھی ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے صرف عذاب ہی کی خاطر انسان کو پیدا نہیں کیا گیا۔ناکامیوں اور مایوسیوں کیلئے تو پیدا نہیں کیا گیا۔یہ سارے جذبے جو بیان کئے گئے ہیں ، یہ محرکات ہیں زندگی کے۔اگر ان کا صحیح استعمال شروع ہو جائے تو اس کے نتیجے میں مغفرت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوسکتی ہے اور رضائے باری تعالیٰ بھی حاصل ہوسکتی ہے۔بنیادی طور پر زندگی کی شکل وہی رہے گی جو اوپر بیان ہوئی ہے۔اس سے تبدیل شدہ کوئی شکل بیان نہیں کی گئی۔مگر یہ سارے جذبے جو انسان کو ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف لے کر جاتے ہیں ان کو ایسا رخ دیا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضوان کا موجب بن جائیں۔فی ذاتہ کھیل کو د اور لہو و لعب یا عیش و عشرت ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کلیتہ جدا ہوہی نہیں سکتا ، ناممکن ہے۔لیکن ہمیشہ جب کھیل کو د خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابل پر آئے اور کھیل کو د کو انسان قربان کر دے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو اختیار کرلے تو یہی انسانی جذ بہ مغفرت اور رضوان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔شہوات نفسانی بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ مومن کی زندگی میں شہوات کا کوئی دخل نہیں۔مگر جب وہ تابع مرضی مولیٰ ہو جائیں تو مغفرت اور رضا کا موجب بن جاتی ہیں۔اور خدا کی خاطر شہوات چھوڑنے کا نام اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔پھر زینت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومن بھی زینت اختیار کرتے ہیں لیکن ان کی زینت کا تصور بدل جاتا ہے وہ لباس التقویٰ میں زینت حاصل کرتے ہیں۔اس سے عاری رہ کر تو کوئی زندگی بسر نہیں کر سکتا۔زینت کی تمنا تو ہر انسان کو حاصل ہے۔مگر اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات :١٣) وہ ایسی زینت اختیار کرنے لگ جاتے ہیں جس میں ان کو ظاہری زینت کی نسبت زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے اور چین دل وہ بھی پارہے ہیں اس زینت میں، لیکن وہ مختلف قسم کی زینت ہے۔اور اس کے