خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد اول 221 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء لیجئے کہ جہاں جہاں بچوں میں لہو ولعب بڑھتی ہے وہاں نمازوں کی طرف توجہ کم ہو جاتی ہے، سنجیدگی کم ہونے لگ جاتی ہے، پڑھائی کی طرف توجہ کم ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ آپ دیکھیں گے کہ ٹیلیویژن کے اوپر لڑ کے کرکٹ دیکھ رہے ہیں لیکن نماز کا اعلان ہوتا ہے ، اذان ہوتی ہے تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔یعنی لعب غالب آجاتی ہے انکے اوپر اور جن لوگوں پر لعب غالب آتی ہے یعنی کھیل کی دلچسپیاں ، یہ ان کی تقدیر ہے کہ وہ آہستہ آہستہ لہو میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔یہ ایسا فطری جوڑ ہے کھیل کود میں ضرورت سے زیادہ انہماک کا ، آوارہ مزاجی اور بے حیائی کیساتھ کہ ایک رجحان دوسرے میں خود بخود داخل ہو جاتا ہے۔انسان کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔سنجیدگی پاکیزگی پیدا کرتی ہے اور کھیل کود کا مزاج بے حیائی پیدا کرتا ہے اور بے حیائی کیساتھ زینت کا تعلق ہے۔چنانچہ جب انسان زینت میں داخل ہو جائے یعنی دنیا کی زمینوں میں تو اس بات سے قطعاً بے نیاز ہو جاتا ہے کہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ادنی ضرورتیں مہیا نہیں ہیں کوٹھیوں کی سجاوٹ اور اعلیٰ قسم کی زندگی کے حصول کے لئے جس میں حسن زیادہ ہو، دکھاو از یادہ ہو، لوگ دیکھیں اور کہیں کہ یہاں تو کمال ہو گیا، ایسی خطرناک دوڑ شروع ہو جاتی ہے کہ انسانی دماغ یہ توجہ ہی نہیں کرتا کہ مجھ سے نیچے ایسے لوگ ہیں جو غریب ہیں، جن کے پاس پہنے کیلئے کپڑے نہیں ہیں ، جن کو روٹی میسر نہیں ہے، جن کے لئے سر چھپانے کی جگہ نہیں۔ادھر دیکھنے کی بجائے وہ ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں جن کو زیادہ زینت مہیا ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہمسایہ ہے جس نے بہت بڑی کوٹھی بنالی ہے، ایک اور ہمسایہ ہے جس کے پاس بہت اونچی کا رآ گئی ہے، ایک اور ہمسایہ ہے جس نے ماڈرن فرنیچر خریدلیا ہے، ایک ایسا ہمسایہ آ گیا ہے نظر میں جس نے وڈیو ریکارڈر خریدا ہوا ہے۔تو زینت جو ہے وہ رفتہ رفتہ تفاخر میں تبدیل ہوتے ہوتے تکاثر میں بدل جاتی ہے۔پہلے فخر شروع ہو جاتے ہیں کہ دیکھو میرا گھر زیادہ خوبصورت ہے، میری چیزیں زیادہ اچھی ہیں۔تو فخر جو ہے وہ پھر تکاثر کی دوڑ میں داخل ہو جاتا ہے۔چین ہی نہیں آتا جب تک ایک دوسرے سے سبقت نہ لے جائیں۔اور یہ تکاثر بالآخر انسانی ذہن اور توجہ کو اس طرح مسخ کر دیتا ہے کہ مال کی ذاتی محبت غلبہ پا جاتی ہے اور قوت کی ذاتی محبت غلبہ پا جاتی ہے۔سیاسی برتری اور اموال کی برتری اسی کے دو نام ہیں۔امیر قو میں بالآخران دو چیزوں میں