خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 218

خطبات طاہر جلد اول 218 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء جاتا ہے۔جس غریب کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ، پیٹ بھر کے کھانا میسر نہیں ، بچوں کے پہننے کے لئے کپڑے نہیں، اور بسنے کے لئے گھر نہیں ہے۔اس غریب کو زینت کی کیا ہوش ہو سکتی ہے۔وہ تو بعض دفعہ خود اتنا گندا رہتا ہے کہ اس کے قریب سے بھی گزرو تو بد بو آنی شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے درجہ بدرجہ انسانی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے زینت کو بعد میں رکھا۔فرمایا ایک ایسا طبقہ بھی ہے انسانوں کا جس کو ادنی ضرورتیں مہیا ہو جاتی ہیں تو پھر وہ زینت کا خیال کرتا ہے۔اور زینت کے ساتھ لازماً تفاخر کا تعلق ہے۔جب انسان زینت اختیار کرتا ہے تو چاہتا ہے کے میں دوسرے کو دکھاؤں اور دوسرے سے بہتر نظر آؤں۔مختلف زبانوں میں یہ کہانیاں مشہور ہیں کہ بعض دفعہ عورتیں دکھاوے کی خاطر گھر جلوا بیٹھیں۔جس انسان کے اندر زینت آجائے اس میں بے اختیار تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنی زینت کا اظہار کرے اور دکھاوا کرے تو اس سے مضمون رخ بدل کر تفاخر میں داخل ہو جاتا ہے۔زینت کا حصول پھر فخر پیدا کرتا ہے اور انسان انسان پر اور قومیں قوموں پر فخر کر نے لگ جاتی ہیں۔وَتَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ وَالْاَوْلَا دِ یہاں تک کہ انسانی دولتیں جو کچھ بھی خرید سکتی ہیں وہ خریدنے کے باوجود، سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود پھر بھی حرص باقی رہ جاتی ہے۔اور وہ حرص فی ذاتہ مال کی محبت اور قومی بڑائی پیدا کر دیتی ہے۔چنانچہ انسان محض اس غرض میں مبتلا ہو جاتا ہے زیادہ دولت کے بعد کہ اسے اور دولت حاصل ہو۔اور یہ جو آخری بیماری ہے یہ بعض دفعہ اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ پہلے کی ادنی چیزیں ذہن سے اتر جاتی ہیں اور غائب ہو جاتی ہیں۔ایسے لوگوں کو بعض دفعہ نہ کھیل کا شوق رہتا ہے، نہ ہو گا، نہ زینت کا ، کسی اور رنگ میں نہ تفاخر کا۔صرف اور صرف پیسہ اکٹھا کرنا اور طاقت کا حصول ان کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔یہاں اولا د کا جو ذکر فرمایا گیا کہ اولاد میں بھی تکاثر ہوتا ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آجکل کی دنیا میں تو اولاد پر نہ تفاخر ہوتا ہے نہ تکاثر کسی زمانے میں جب سوسائٹی اونی حالت پر تھی اسوقت ، ہوسکتا ہے لوگ فخر کرتے ہوں کہ ہمارے بچے زیادہ ہیں۔آجکل کے زمانے میں تو بعض دفعہ بچوں کی تعداد پوچھو تو لوگ شرما جاتے ہیں۔جن کے سات آٹھ بچے ہوں یا دس گیارہ بچے ہوں وہ ذرا جھجک کے جواب دیتے ہیں۔تو قرآن کریم نے یہ کیا فرما دیا۔کیا تَكَاثُرُ فِي الْأَمْوَالِ