خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 211

خطبات طاہر جلد اول 211 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء رب ہے، اس نے آج یہ صبح ہمیں دکھائی ہے تو کل دوسری بھی دکھا سکتا ہے، پرسوں تیسری بھی دکھا سکتا ہے اور ایک نعمت پر راضی ہو کر وہیں بیٹھ رہنے والے نہیں اگر چہ ہم اس نعمت پر راضی ہیں مگر ان معنوں میں نہیں کہ ہم اسی پر بیٹھ رہیں کیونکہ خدا کی نعمتیں لامتناہی ہیں اور اس نے عطا کی ہیں۔ہمارا تو کچھ تھا ہی نہیں۔پس جب سب کچھ ہی اس نے عطا کیا ہے۔وہ بلا وجہ اور بلا استحقاق کے یہ فضل فرما سکتا ہے تو اگلا فضل بھی ہم کیوں نہ اس سے مانگیں۔ایک بیدار مغز انسان کی طبعا اس طرف توجہ منتقل ہوتی ہے۔انسان اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتا۔اپنی کوشش سے غافل نہیں ہوتا۔ویسے بھی ایک دوسرا شریہ ہے کہ جو تو میں نعرہ بازیوں میں مبتلا ہو جائیں ان کے جذبات کی قوتیں ختم ہو جاتی ہیں۔اگر جذبات کو روکا جائے تو وہ اعمال میں ڈھل جایا کرتے ہیں۔اسی لئے ہر نعمت کے ساتھ صبر کی تلقین ہے کہ صبر ضرور اختیار کرنا کیونکہ صبر کے نتیجہ میں اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔پس یہ ٹھیک ہے کہ خوشی کے وقت یہ بھی جائز ہے اور ایسا ہوتا چلا آیا ہے کہ انسان نعرے بلند کرتا ہے لیکن نعرے بھی ایسے معنی خیز ہونے چاہئیں جو آپ کے جذبات کو خالی نہ کر دیں، انڈیل نہ دیں بلکہ لا متناہی معانی کے جہان آپ کے دلوں میں روشن کرنے والے نعرے ہوں۔مثلاً اللہ اکبر کا نعرہ ہے۔یہ ایک ایسا عظیم الشان نعرہ ہے کہ اگر ساری عمر قو میں اس نعرے کو بلند کرتی چلی جائیں اور فلک شگاف نعرے بلند کرتی چلی جائیں۔تب بھی یہ اللہ اکبر کا مضمون ختم نہیں ہوسکتا۔ہر ترقی ، ہر بڑائی بتاتی ہے کہ سب سے بڑا تو خدا ہے اور اس کی نہ ختم ہونے والی بڑائی ہے۔جس کی بڑائی نہ ختم ہونے والی ہو اس کے لئے نہ ختم ہونے والے نعرے لگتے چلے جائیں گے۔اور ان نعروں کا کوئی انجام نہیں ہے۔ایسے نعروں کا کوئی اختتام نہیں ہے۔اسی طرح جب خدا ہمیں کوئی فتح عطا فرماتا ہے تو فتح کی کنہ کو سمجھنا چاہئے۔یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ فتح کس کے طفیل نصیب ہوئی، کیوں نصیب ہوئی۔میں نے جہاں تک قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے۔وہاں کسی جغرافیائی فتح کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔اول سے آخر تک آپ قرآن کریم کا مطالعہ کریں ، بار بار کریں ، جس طرح چاہیں سمجھیں، جن ڈکشنریوں سے چاہیں فائدہ اٹھالیں کسی علاقائی فتح کا قرآن کریم میں مومن کے لئے ذکر نہیں۔روحانی فتوحات کا ذکر ہے۔دینی فتوحات کا ذکر ہے آنحضرت علی کورحمتہ للعالمین تو قرار دیا گیا۔فاتح عالم قرار نہیں دیا۔ہاں یہ فرمایا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (اتو بہ: ۳۴) کہ وہ اس لئے مبعوث