خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد اول 17 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء ڈوبا ہوا تھا اور سمجھ رہا تھا کہ میں نے بہت بڑا تیر مارا ہے کہ اس آیت کے حضور جھک کر میں نے کچھ حاصل کیا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ یہ اللہ کا فضل عام ہے اور خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے وہی جذبہ عطا فرمایا لیکن چونکہ ظاہری آنکھ اندر تک نہیں جاتی ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ کسی کے دل کی کیا کیفیت ہے۔پھر میں نے اور نظر وسیع کی تو یہ دیکھ کر میرا دل حمد سے کناروں تک بھر گیا۔اٹڈ نے لگا۔جذبات میں بہنے لگا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری جماعت اس خاندان میں داخل ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ایسے حیرت انگیز ، ایسے عظیم الشان نمونے دکھائے ہیں ذات باری تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے اور اپنے علم کو کلیہ رد کر کے ایک ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کے کہ عش عش کر اٹھتا ہے دل۔ربوہ کی ایک ایک گلی گواہ ہے بڑے سے بڑا ابتلاء جو ممکن ہوسکتا تھا۔تصور میں آسکتا تھا وہ آیا اور گزر گیا اور کوئی زخم نہیں پہنچا سکا جماعت کو اور انتہائی وفا کے ساتھ اور کامل صبر کے ساتھ جماعت اس عہد پر قائم رہی کہ : ”ہم خلافت احمدیہ سے وابستہ رہیں گے اور اس کی خاطر اپنا سبہ کچھ لٹا دینے کیلئے تیار ہوں گے۔“ ان میں بہت سے ایسے ہوں گے جن کی نظر میں میری حیثیت ایک حقیر کیڑے کی سی ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ کے بالا علم اور غالب علم کے سامنے انہوں نے بھی اپنا سر جھکایا۔پس یہ سارے امور جب ایک نفس سے، ایک فرد سے سیر کرتا ہوا میں اس آیت کا ہاتھ پکڑے ہوئے خاندان سے ہوتا ہوا جماعت کی وسعتوں میں گیا تو ایک عظیم الشان سیر میں نے کی، ایسی پر لطیف ایسی عظیم الشان روحانی سیر جس نے میری زندگی کے انگ انگ کو لطف سے اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کے تصور سے بھر دیا۔یہ ذکر میں آپ کے سامنے اس لئے کر رہا ہوں کہ اب حمد کا وقت ہے۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کریں آپس میں ، اور حمد کے گیت گائیں۔اور میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ : یہ وہ آخری بڑے سے بڑا ابتلا ممکن ہو سکتا تھا جو آیا اور جماعت بڑی