خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 205
خطبات طاہر جلد اول 205 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء لے کر آتی ہے اور بے چینی اور بے فکری کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔لیکن وہ لوگ جو اس نظام سے غافل ہوتے ہیں اور اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں وہی رات ان کے لئے شر لے کر بھی آجاتی ہے، تو فرمایا وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ) جب اندھیرے آئیں گے تو ان کے شر سے بھی ہمیں محفوظ رکھنا۔اندھیروں کے شرکیا ہیں، اس کا بھی ان آیات میں ذکر ہے۔اور اندھیرے کس کس قسم کے آتے ہیں، ان کا بھی ان آیات میں ذکر ہے۔ایک اندھیرے تو وہ ہیں جو روشنی کے نتیجہ میں ایک رد عمل کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ایک اندھیرے وہ ہیں جو قانون قدرت کے مطابق دن اور رات کے ادلنے بدلنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں جو تِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران :(۱۳) کا مضمون لے کر آتے ہیں۔یعنی خدا کی طرف سے ترقیات تو عطا ہوتی ہیں لیکن جو قو میں ان ترقیات کا شکر ادا نہیں کرتیں وہی دن ان کے لئے راتوں میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔اور قوموں کی تاریخ کا خلاصہ یہی ہے کہ کبھی وہ عروج حاصل کر رہی ہیں کبھی زوال پذیر ہورہی ہیں۔لیکن دنیا میں تو یہ ایک طبعی نظام کے طور پر ہمیں ملتا ہے کہ لازم روشنی کے بعد اندھیرے میں آنا ہے۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ روشنیاں جو ہم مذہبی قوموں کو عطا کیا کرتے ہیں ان کے بعد اندھیرالازم نہیں ہے۔ہوسکتا ہے اور یہ ایک حد تک تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ ان روشنیوں کا زمانہ لمبا کرلو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَامَرَدَّ لَهُ (الرعد: ۱۳) کہ خدا تعالیٰ نے ایک تقدیر بنادی ہے۔یہ مبرم تقدیر ہے جو ٹل نہیں سکتی۔لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوهِر جو نعمتیں کسی قوم کو عطا فرماتا ہے ان کو پھر تبدیل نہیں کیا کرتا۔حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بأَنفُسِهِمْ یہاں تک کہ وہ خود تبدیل ہونے لگتے ہیں۔خود بلانے لگتے ہیں تباہی کو اور ہلاکت کو اور تنزل کو۔اس وقت خدا کی ایک اور تقدیر ظاہر ہوتی ہے اور ان کے اعمال کا نتیجہ ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔فرماتا ہے وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءً فَلَا مَرَدَّ لَهُ پھر جب اللہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس قوم کو برائی میں مبتلاء کیا جائے گا۔لَا مَرد لہ اس فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔یہ بھی