خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد اول 202 خطبه جمعه ۵ ارا کتوبر ۱۹۸۲ء سکھائی گئی اور انسان کو ایک ایسے مضمون سے آگاہ کیا گیا کہ اگر وہ اس سے باخبر رہے تو ترقیات اور فضلوں اور رحمتوں کے وقت بے خوف نہ ہو اور دنیا کی نظر میں جتنے خوف ہیں ان خوفوں کے وقت مایوس نہ ہو۔گویا ہر حالت میں انسان کو اعتدال کا سبق سکھایا گیا ہے۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَةٌ فلق کہتے ہیں بیج کے پھوٹنے کو اور گٹھلیوں کے پھٹ کر ایک نئی کونپل پیدا کرنے کو، اور رات کے صبح میں تبدیل ہونے کو۔اور اس کے علاوہ اس کے برعکس معانی بھی فلق کے ساتھ وابستہ ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ فَالِقُ الحَبّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَقَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللهُ فَانّى تُؤْفَكُونَ ) (الانعام : ۹۶) دیکھو! إِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبَّ وَالنَّوَى اللہ بیجوں اور گٹھلیوں کو پھاڑ کرنئی زندگی پیدا کرنے والا خدا ہے يُخْرِجُ الْحَقِّ مِنَ الْمَيِّتِ اسی طرح وہ مردوں سے زندگی نکالتا ہے۔لیکن اس حالت سے بے خبر نہ رہنا کہ یہی مضمون برعکس صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے وَ مُخْرِج الْمَيِّتِ مِنَ الْحَقِّ اور زندگی سے موت بھی نکلتی رہتی ہے۔زندوں سے مردہ بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اور زندگی میں بھی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔چونکہ فلق کے دونوں پہلو سامنے ہیں اس لئے جب بھی انسان کے لئے ترقیات کی نئی راہیں کھلیں ، نئی صبحیں نمودار ہوں، انسانی کوششوں اور محنتوں کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو اور وہ کوششیں پھوٹ کر کونپلوں میں تبدیل ہو رہی ہوں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں فخر کا کوئی مقام نہیں، بے فکر ہونے کی کوئی بات نہیں، ایسے جشن منانے کی کوئی ضرورت نہیں جو سطحی اور دنیا کے جشن ہوں، کیونکہ حقیقت میں ہر زندگی کے ساتھ ایک موت بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ہر روشنی کے ساتھ کچھ اندھیرے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر اپنے رب کے حضور جھکنا چاہئے جو خالق ہے، جس نے خیر وشر کا یہ نظام پیدا فرمایا ہے، اور اس سے یہ عرض کرنی چاہئے کہ اے اللہ! ہمیں اس زندگی کے نئے دور میں اس طرح داخل فرما کہ اس کے ہر شر سے محفوظ رکھنا اور ہر خیر اور برکت ہمارے پہلے میں