خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد اول 16 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء کے متعلق نہ انسان خوبیوں سے عالم و واقف ہو سکتا ہے نہ بدیوں سے واقف ہوسکتا ہے۔بسا اوقات بدیاں نظر آ رہی ہیں۔ان کے پس پردہ بعض خوبیاں مخفی ہیں۔بعض دفعہ خوبیاں نظر آ رہی ہوتی ہیں ان کے پس پردہ بدیاں مخفی ہوتی ہیں۔تو اتنے دھو کے ہیں کہ جس طرح ستاروں کا علم انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا وہ تو دور کی چیز ہے اپنے قریب کے انسان کا بھی سچا علم انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ایک ہی محفوظ مقام ہے کہ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کے ہاتھ میں انسان ہاتھ تھادے اس کامل یقین کے ساتھ کہ جو وہ فیصلہ فرمائے گا اسی میں بہتری ہے اور ہمارے فیصلے اس کے مقابل پر کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اس پہلو سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو جو عظیم الشان نمونہ دکھانے کی توفیق ملی ہے وہ یقینا اس بات کا مستحق ہے کہ ہم ان کیلئے دعائیں کریں۔حیرت انگیز یہ مشاہدہ تھا کہ کل تک جن کی نظریں اور تھیں، جن کے خیالات مختلف تھے ، جو ناراض تھے، جو نالاں تھے یک بیک ایک ایسی کا یا پلٹ گئی۔ان کی آنکھیں بدل گئیں، ان کے اندر ادب پیدا ہو گیا اور ان کے اندر ایک عجیب قسم کا احترام اور خلوص کا جذبہ آ گیا جس کا میں عادی نہیں تھا اور شدید روحانی اذیت اور شرمندگی میں یہ وقت میں نے کاٹا استغفار کرتے ہوئے لیکن ساتھ ہی اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے بھی۔ان سب کے دلوں کی جو حالت بدلی ہے جو کایا پلٹی ہے یہ ان کے دل کی نیکی کی بنا پر ہے۔ورنہ تصورات کی کایا نہیں پلٹ سکتی جب تک نیکی کا بیج دل میں نہ ہو۔اس بات پر سو فیصدی وہ متفق تھے اور اس میں کوئی ان کو شبہ نہیں تھا کہ نظام جماعت کو اہمیت دی جائے گی اور ہمارے ذاتی جذبات اور خیالات کی کوئی وقعت نہیں ہوگی۔بڑوں نے بھی اور چھوٹوں نے بھی ، بہنوں نے بھی اور بھائیوں نے بھی ، رشتے میں بڑے مقام کے لوگوں نے بھی حتی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیاری بیٹی حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے بھی خلافت احمدیہ سے وابستگی کا ایک سانمونہ دکھایا۔میرے لئے وہ وقت نا قابل برداشت تھا جب انتہائی خلوص اور کامل وفا کے عہد کے ساتھ آپ میری بیعت کر رہی تھیں۔آنکھوں میں پیار تھا، اس قسم کا نہیں جو پھوپھی کا پیار ہوتا ہے۔ایک اور قسم کا پیار آچکا تھا۔تو میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک جہان کی سیر کرا دی۔پہلے تو میں اپنے نفس میں