خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد اول 15 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جون ۱۹۸۲ء کر سکا کیونکہ اب بھی میں یہی کہتا ہوں هُوَ اللهُ الَّذِئ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ لیکن میری دعا ہے کہ خدا کی نظر میں میں اس اقرار پر قائم رہا ہوں۔اور آپ کو بھی میری تلقین ہے کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں عجز وانکساری کے ساتھ کہ وہ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ آپ کے دل میں کبھی تکبر کا کوئی کیڑا پیدا نہ ہونے دے اپنی ذات کے متعلق بھی۔کیونکہ کوئی شخص اپنی ذات کے متعلق بھی حقیقی علم نہیں رکھتا، کیونکہ معاذ یر اس پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔عذر خواہی اور عذر پیش کرنے کی جو عادت ہے انسان میں ، یہ دونوں عادتیں اس کو نقصان پہنچاتی ہیں چنانچہ اسی عادت کے انبار تلے حقیقت چھپ جاتی ہے اور انسان اپنے نفس کے حال سے باخبر ہونے کی بھی توفیق نہیں پاتا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيرَهُ (البية 1 12) معاذیر نے وہ شرط پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں بصیرت مدھم پڑ گئی۔بہر حال اس مضمون کے سلسلے میں اب میں بالکل ایک اور ورق پلٹتا ہوں۔اس خلافت کے انتخاب کے موقع پر خاندان حضرت اقدس نے جو عظیم الشان نمونہ دکھایا ہے میں اس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔سب سے زیادہ ایک انسان کے نقائص پر اس کے خاندان والے آگاہ ہوتے ہیں اور میری ذاتی کمزوریوں اور نقائص اور کوتاہیوں اور اس قسم کی بہت سی چیزوں سے میرے خاندان والے سب سے بڑھ کر آگاہ تھے۔پس ان کے ذاتی فیصلے مختلف ہوں گے میرے بارے میں۔صرف انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ قطع نظر اس کے کہ کون خلیفہ ہوتا ہے، جو بھی ہوگا ہم اس کی اطاعت میں سر تسلیم خم کر دیں گے اور اپنے فیصلوں کو نظر انداز کر دیں گے، ان کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔یہ میں اس لئے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بعض پہلوؤں سے جماعت کے دل دکھے ہوئے ہیں اور ان کو چر کا لگا ہے مگر خاندان کے اس پہلو پر بھی غور کریں کہ انہوں نے بھی کامل اطاعت کے ساتھ اپنے رب کے حضور سر جھکایا ہے۔ورنہ اگر میری ذات پیش نظر ہوتی تو بھاری اکثریت کا یہ فیصلہ ہوتا کہ یہ اس لائق نہیں ہے۔دو طرح کی ٹھوکریں انسان کو لگتی ہیں مشاہدے میں۔بہت سی باتیں ہیں جن