خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 191
خطبات طاہر جلد اول 191 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء کرے اور پھر ایسا شخص جو افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہو۔اس زمانہ کے عرب اس طرح کے لوگوں کی اطاعت کو خاص اپنی بے عزتی سمجھتے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ غلام بھی ہو۔ایک حبشی اور اوپر سے غلام، دو باتیں اکٹھی ہو کر عربوں کے لئے انہیں اپنا را ہنما ما نا بہت مشکل تھا۔پھر بڑے سر قیادت اور عقلمندی کی نشانی تھے۔اور عرب بڑے سر ہونے پر فخر کرتے تھے کہ یہ عقل و دانش کی نشانی ہے۔اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنا سر چھوٹا ہوگا اتنا ہی وہ شخص احمق اور بے وقوف ہوگا۔اگر صلى الله چھوٹا سر ہے تو زیادہ احمق ہوگا۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے یہ دونوں کمزوریاں جمع فرما دیں اور فرمایا کہ اگر وہ ایک حبشی غلام ہو جس کا سر بھی اتنا چھوٹا ہو کہ محسوس ہو کہ اسکا دماغ ہی نہیں ہے ، تب بھی اگر وہ امیر مقرر ہو جائے تو اسکی اطاعت کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاحکام باب اسمع والطاعة لامام مالم تكن معصية ) اسی صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جب کوئی شخص نماز کی امامت کروارہا ہو۔بعض متجسس ہوتے ہیں اور لوگوں کے بارہ میں ایسی معلومات رکھتے ہیں جو باقی جماعت کو معلوم نہیں ہوتیں۔نتیجہ وہ ایک قاضی کی طرح بعض دوسرے احمدیوں کے بارہ میں فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے، وہ برائیوں کا شکار ہے۔خواہ ان کے پاس کافی ثبوت ہو یا نہ ہو۔خواہ وہ اس الزام کے ثبوت میں اسلامی قوانین کے مطابق تسلی بخش شہادت پیش نہ کر سکیں۔انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔وہ صرف ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ فلاں فلاں شخص برائیوں کا شکار ہے۔چنانچہ اسے کوئی عہدہ نہیں ملنا چاہئے۔خصوصاً اس کے امام الصلوۃ ہونے کے بارہ میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔یہ سوالات حضرت محمد ﷺ کے زمانہ میں بھی اٹھائے گئے تھے اور ان کا قیامت تک کے لئے فیصلہ فرما دیا گیا۔دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بد کار ہو، نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہو، بدتہذیب ہو اور نہایت برے کردار کا شخص ہو، اگر وہ امام الصلوۃ مقرر ہو جائے اور بعض لوگوں کی نظر میں اسکا امام ہونا کھٹکتا ہے کہ متقی لوگ اس قسم کے شخص کی پیروی میں نماز با جماعت کے لئے کھڑے ہوں تو اس قسم کے امام الصلوۃ مقرر ہونے کی صورت میں متبعین کو کیا کرنا چاہئے۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسکی پیروی کرو۔اللہ تعالیٰ ہی نمازیں قبول فرمائے گا۔کیونکہ نمازیں امام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔