خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد اول 190 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء ہوں تو کسی کو غلط نہیں اور نا اتفاقی کے بیج بونے کی جرات نہیں ہوسکتی۔ان چیزوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ جہالت ہے۔جہالت اور تاریکی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔علم روشنی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے روشنی پھیلانی چاہئے۔تا کہ ہر شخص راستہ دیکھ سکے۔اس صورت میں ان باتوں کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہے کیونکہ بصارت درست ہو تو پھر انسان دوسرے لوگوں سے ٹکرا تا نہیں پھرتا ، ماسوا جنگلی انسانوں کے۔ایسا ہوتا تو ہے مگر بہت کم۔نارمل ذہن رکھنے والے افراد ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے ٹکراتے نہیں پھرتے۔چنانچہ ساری جماعت کو احمدیت کی روایات کے مطابق اپنے حقوق سے بھی آگاہ ہونا چاہئے اور نظام میں اپنے سے بالا افراد کے حقوق سے بھی۔یہاں میں نے بالا افراد کا لفظ بولا ہے۔میری مراد اس سے انتظامی طور پر بالا افراد سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو بعض افراد انتظامی طور پر بالا افراد سے کہیں زیادہ بلند ہونگے۔کیونکہ یہ تو دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کا معاملہ ہے کہ کون دراصل بلند مقام پر فائز ہے۔تو میں صرف انتظامی طور پر بالا افراد کا ذکر کر رہا ہوں۔اب میں یہاں پر بعض حقوق کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ اگر کسی امیر نے غلطی سے آپ کو کوئی غلط حکم دے دیا ہے اور اگر وہ حکم قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں آپ کو اسکی اطاعت کرنی ہے۔جیسا میں نے واضح کر دیا ہے اگر وہ حکم قرآن کریم کی تعلیمات کے منافی نہیں تو پھر آپ پر اطاعت فرض ہے۔اور اگر کسی آیت قرآنی کی تفسیر میں اختلاف بھی ہو تب بھی آپ نے بات ماننی ہے۔کیونکہ یہ آپ کا کام نہیں کہ اسکی تاویل ڈھونڈ کر امیر کی اطاعت نہ کرنے کا بہانہ تلاش کریں۔حضرت رسول کریم علیہ نے امیر کی اطاعت پر اتنا زور دیا ہے کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔کسی نے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کیا اگر کوئی شخص ایسا ایسا ہو تو کیا پھر بھی ہم اسکی اطاعت کریں۔آپ نے فرمایا۔ہاں پھر بھی۔اگر کوئی شخص ایسا ہو تب بھی ہمیں اسکی اطاعت کرنی ہے۔آنحضور ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اگر ایک حبشی غلام جس کا سر منقہ کے دانے برابر ہو اور وہ تمہارے اوپر مقرر ہو جائے تب بھی تم نے اسکی اطاعت کرنی ہے۔اب یہ وہ کمزوریاں تھیں جو عرب ذہن کو مشتعل کرتی تھیں۔عرب ذہن اس بات کے ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ کسی عجمی کی اطاعت