خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 189
خطبات طاہر جلد اول 189 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء سے روشناس کروا دیا اور پھر بتایا کہ اس کے علاوہ جو بھی اچھا کام وہ کرے گا وہ نوافل کے زمرے میں آئے گا۔اس نے کہا کہ میں وہی کروں گا جو مجھ پر فرض ہے اس سے زیادہ نہیں تو کیا میں بخشا جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ تمہارے لئے کفایت کرے گا۔( بخاری کتاب الایمان باب الزکوۃ من الاسلام ) تو یہ کم از کم ضروری معیار ہے۔چنانچہ اگر کوئی کم از کم معیار سے نیچے گرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آئے گا نہ کہ لوگوں کے غضب کے۔لوگ اسے صرف پیار سے سمجھا سکتے ہیں۔صرف نصیحت ہی کی جاسکتی ہے، تو جو لوگ حدود سے تجاوز نہ کرنے والے ہوں ان پر کسی کوسختی کرنے کا حق نہیں۔چنانچہ اگر بعض مربیان اور مبلغین عمدہ طور سے گزارا کر رہے ہیں تو کسی کو بھی علم نہیں ہوسکتا کہ ان کے دیگر ذرائع آمد کیا ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بعض اور ذرائع آمد مہیا فرمائے ہوں جو وہ ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں۔چنانچہ جب تک آپ ٹھوس شواہد نہ پیش کریں ، بے ایمانی کے ٹھوس ثبوت مہیا نہ کریں تو آپ کو کوئی حق نہیں کہ کہیں دیکھو فلاں فلاں شخص اچھی طرز سے گزارا کر رہا ہے جبکہ اس کا اسے کوئی حق نہیں۔کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نعمتیں مومنین کے لئے تیار کی گئی ہیں۔اس دنیا میں دوسرے بھی ان میں شریک ہیں مگر آخرت میں وہ خاص طور پر صرف مومنین کے لئے ہی میسر ہوں گی۔ایک اور بات یہ ہے کہ آپ کو امراء اور جماعت کے عہدیداران کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔امراء اور عہدیداران خلافت کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔جو بالآخر ساری جماعت کی تنظیم کی ذمہ دار ہے۔چنانچہ اس نظام کے کارکنان کی حیثیت سے انہیں خلافت کے نظام سے بعض حقوق عطا کئے جاتے ہیں۔وہ اپنے مقام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔بعض اوقات کسی خاص عہدیدار کے حقوق نہ جانے یا نہ سمجھنے کی وجہ سے مسائل ابھرتے ہیں۔لوگوں کو نہ تو اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان عہدیداروں کے حقوق کا جنہیں بعض کا موں پر مقرر کیا گیا ہو۔چنانچہ یہ بہت اہم بات ہے کہ جماعت انگلستان ان سب دوستوں کو بتائے کہ عہد یداران کی کیا حدود ہیں۔ان کے حقوق اور فرائض کیا ہیں۔اور ان کی کیا حدود ہیں جن پر وہ بطور امیر ،صدر یا کسی اور حیثیت میں مقرر کئے گئے ہیں۔اگر آپ اپنے حقوق اور اپنے فرائض سے واضح طور پر آگاہ