خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 180

خطبات طاہر جلد اول 180 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء کا حوالہ دیا ہے وہ بھی اس گروپ کے زیر مطالعہ ہوں اور یہ بات نوٹ کی جائے کہ یہ حوالہ جات اس نے درست طور پر دیئے ہیں یا غلط اور پھر اس کے جو بھی نتائج نکلیں ان سے مرکز کو مطلع کیا جائے۔وہاں ہم مزید تحقیق کر کے فیصلہ کریں گے کہ ان الزامات کا بہترین طور پر جواب کیسے دیا جاسکتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کے دفاع میں مستقبل قریب میں نیا لٹریچر تیار ہو جائیگا اور اس آیت میں نئے آسمان کی تخلیق سے یہی مراد ہے۔یہ نیا آسمان آئندہ تیار نہیں ہوگا۔یہ تو حضرت محمد مصطفی ﷺے پہلے ہی تیار کر چکے ہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی طریق پر تیار کیا ہے۔اب صرف یہ کمزور ہو رہا ہے۔اسی لئے ہمیں اس نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی جارہی۔کسی نئی چیز کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔چنانچہ بالآخر یہ ہو گا کہ جب وہ ہمیں تمام اطلاعات مہیا کریں گے تو مشنری انچارج جائزہ لیں گے کہ کہیں یہ تو نہیں کہ کوئی پہلو بالکل تشنہ رہ جائے اور کہیں بہت زیادہ توجہ ہو جائے اور پھر وہ اس میں ایک توازن قائم کریں گے۔نتیجہ ہم مرکز میں اندازہ کر سکیں گے کہ ساری دنیا میں جو بھی اسلام کے خلاف کچھ لکھتا ہے احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسکا تعاقب کر رہے ہیں۔اور ہر اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے۔اسکی نگرانی مرکز کی ذمہ داری ہے۔چنانچہ انشاء اللہ ہم اسلام کو خطرے کی حالت میں نہیں رہنے دیں گے۔جب تک ہم زندہ ہیں یہ ناممکن ہے۔مگر جیسا کہ میرا تکلیف دہ مشاہدہ ہے کہ میں نے بعض کتب کا مطالعہ کیا جن میں آنحضور ﷺ اور قرآن کریم پر بے ہودہ حملے کئے گئے تھے۔اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہمارا جگر چھلنی ہو جاتا ہے اور پھر ظلم کی بات یہ ہے کہ زبان ایسی استعمال کی جارہی ہے جیسے کوئی دوست گفتگو کر رہا ہے نہ کہ دشمن۔اور اسلامی دنیا میں ان نام نہاد دوستوں کو بڑی پذیرائی ملتی ہے۔پھر ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہ احمدیت کا ذکر ہی نہیں کرتے۔جہاں بھی انہوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے اور وہ سکالرز ہیں اور یقیناً انہوں نے احمد یہ لٹریچر کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔بعض کے بارہ میں تو مجھے یقین ہے اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس پہلو سے جماعت احمدیہ نے شاندار رنگ میں اسلام کا دفاع کیا تھا۔مگر وہ اس بارہ میں جماعت کا نام اور جماعت کے عقائد کا ذکر ہی بھول جاتے ہیں۔