خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد اول 181 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء اس طرح وہ ایک ہی وقت میں دو مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔ایک یہ کہ ان کتب کا حوالہ دیے بغیر جن میں کسی عالم دین نے اس بات کا دفاع کیا ہو اسلام پر اعتراض کئے چلے جاتے ہیں۔اور دوسرے وہ کا : غیر از جماعت دنیا کو خوش رکھتے ہیں اور اس طرح وہ اسلام کے وفادار ثابت ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دیکھو جماعت احمدیہ کوئی چیز نہیں۔اسکی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے اسلام کے دفاع کے بارہ میں جو کچھ بھی کہا ہے وہ بے معنی ہے سب مذاق ہے اور ہم ان کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتے۔جو بڑے بڑے علماء ہیں۔وہ اتنی معمولی حیثیت کے مالک ہیں کہ عظیم مستشرقین کی عالی شان کتب میں ان کا ذکر بھی نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ اس طرح وہ تمام عالم اسلام کو خوش رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ دراصل بچے مسلمان ہیں۔آپ ہی کو علم ہے کہ اسلام کہاں ہے اور کہاں نہیں ہے۔اور اس طرح یہ فریب بڑھتا ہی رہتا ہے۔مگر ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔انشاء اللہ۔جیسا کہ قرآن کریم ہماری راہ نمائی فرماتا ہے کہ جب نیا آسمان تخلیق ہوتا ہے ایک نیا انقلاب رونما ہوتا ہے اور اس آیت میں اسی انقلاب کا ذکر ہے۔وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنُهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدً اوَتُهُبَّان عجیب بات ہوئی ہے کہ ایک نیا آسمان تخلیق ہو گیا ہے۔ماضی میں ہم اس پر اپنی مرضی سے حملہ آور ہو جاتے تھے۔مگر اب ہم اس آسمان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ہمیں بڑے مضبوط نگہبانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔جو ہمارا تعاقب کرتے ہیں اور ہمیں سخت سزا دیتے ہیں۔بہت سخت سزا جس کی وجہ سے آگ ہمارا تعاقب کرتی ہے اور ہمیں من مرضی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اس آیت کا یہ مطلب ہے اور جب تک ہم اس عظیم الشان مقصد کو حاصل نہ کر لیں گے جس مقصد کے لئے احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے وجود میں آئی ہے کہ اسلامی اقدار کی حفاظت کی جائے ، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔چنانچہ مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ جلد ہی یہ نظام کام شروع کر دے گا۔اس کا آغاز انگلستان سے ہوگا۔میں جانے سے پہلے ان لوگوں کے نام جاننا چاہوں گا جو اس کام کے لئے خود کو وقف کر سکتے ہوں۔یہ جس پیشے سے بھی متعلق ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہیں انگریزی اچھی طرح آنی