خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 176

خطبات طاہر جلد اول 176 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء میں بہت دکھ سے اقرار کرتا ہوں کہ وہ معیار سے بہت نیچے جاپڑے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام ایک اور طرف سے حملہ آور ہور ہے ہیں۔انہوں نے اسلام پر ایک اور رنگ میں حملہ کیا ہے اور اب ان کا مقابلہ مختلف قسم کے نگہبانوں سے ہے مگر اسلام کے بارہ میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کا ان کا مقصد وہی ہے جو قبل ازیں تھا۔انتقامی رویہ اور دشمنی کا دستور وہی پرانا ہے صرف انداز نسبتا تبدیل ہوا ہے۔مگر ساری دنیا کے احمدی اگر تمام نہیں تو اکثر اس طریق کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔وہ شعوری طور پر اسلامی اقدار کی اس طرح حفاظت نہیں کر رہے جیسی ان کو کرنی چاہئے۔میں یہاں اس تبدیلی کی بات کر رہا ہوں جو صرف احمد یوں میں ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی پیدا ہو رہی ہے۔میں اس بات کی مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ میری بات سمجھ جائیں۔میری مراد یہ ہے کہ اسلام دشمنی اسی طرح سے ہے ، اس کا انداز تبدیل ہو گیا ہے اور وہی دشمن نئے ہتھیاروں سے حملہ آور ہو رہا ہے۔ان کی پالیسی بظاہر ذرا سی تبدیل ضرور ہوئی ہے مگر اصلیت تبدیل نہیں ہوئی۔پالیسی میں بظاہر نرمی پیدا ہوئی ہے۔دشمن بظاہر اتنے دشمن نہیں رہے اور بعض اوقات وہ دوستی کی آڑ میں گفتگو کرتے ہیں۔یہ مستشرقین کی وہ نئی نسل ہے جواب ابھر رہی ہے۔مگر میرا گہرا مشاہدہ ہے کہ سوائے دھوکہ اور فریب دہی کے کچھ بھی نہیں بدلا۔وہی لوگ اسی شدت سے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں۔صرف زبان نرم ہوتی ہے اور طریق کار بدلا ہے اور نام بدل دیا گیا ہے۔ماضی میں جسے زہر کہا جاتا تھا۔اب دوا کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ماضی میں وہ حضرت محمد ﷺ کو کھلے عام جھوٹا ( نعوذ باللہ ) کہا کرتے تھے۔اب وہ کہتے ہیں کہ آپ جھوٹے تو نہیں مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کیا ہیں۔مگر جب وہ قرآن کریم پر اعتراض کرتے ہیں تو وہ پوری صلى الله کوشش اس بات کے ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں کہ آنحضور علیہ اس کے مصنف ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا ہی نہیں۔اور دراصل آپ آچھے مصنف بھی نہیں تھے۔( نعوذ باللہ )۔وہ انسانی اقدار میں کمزوریاں تلاش کرتے ہیں۔اس طرح دیگر شعبوں میں بھی کمزوریاں تلاش کرتے ہیں۔اور تضادات اور تبدیلیوں اور بہت سے دوسرے پہلوؤں پر وہ اعتراض کرتے