خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد اول 175 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء ایسے مضبوط پہریداروں سے ہے جو ان کا تعاقب کرتے ہیں اور انہیں بھگا کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔اور اگر وہ فرار اختیار نہ کریں تو مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اس آسمان کی حفاظت کا نظام اس قدر مضبوط ہے کہ دنیا دار لوگ اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔یہی بات ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور اسی کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔حضرت محمد علیہ تشریف لائے اور ایک نیا آسمان تیار فر مایا۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے صلى الله معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد بہت لمبے عرصہ تک عظیم الشان علماء پیدا ہوتے رہے۔آنحضور علیہ کے صحابہ کے اس فانی دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ایسے لوگ تھے جو ان کے نقش قدم پر چلتے رہے اور اسلام کی اقدار کی پرزور حفاظت کرتے رہے۔نیچے وہ دشمن کو مرعوب کرتے رہے اور ایک وقت ایسا آیا کہ لوگوں کو ان اقدار پر حملہ آور ہونے کی جرات ہی نہ ہوتی تھی کیونکہ اس کے بے شمار نگہبان تھے۔بد قسمتی سے کچھ عرصہ کے بعد جیسا کہ قرآن کریم نے پیشگوئی فرمائی تھی اس آسمان میں تبدیلیاں آنے لگیں۔ستارے اپنے مقام سے ہل گئے اور تاریکی نے آہستہ آہستہ روشنی کی جگہ لے لی۔جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا، بالآخر ایک تاریک رات چھا گئی اور صدیوں پر محیط ہوگئی۔آسمان سے اس بد قسمت تاریک دور میں بہت کم روشنی نظر آتی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔انہیں اللہ تعالیٰ نے خود تیار کیا اور اسلام کے لئے ایک نئے آسمان نے جنم لیا، نئے ستارے طلوع ہوئے اور اسلامی اقدار کے دفاع کے لئے نیا نظام جاری ہوا جس نے فورا ہی کام شروع کر دیا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ستاروں کے جنم لینے کا انتظار نہیں کیا۔وہ سب سے پہلے خود آگے بڑھے اور دراصل اسی طریق سے الله نئے ستارے پیدا ہونے شروع ہوئے جیسا کہ آنحضور علیہ کے زمانہ میں ہوئے تھے۔انبیاء در حقیقت سورج یا چاند کی طرح ہوتے ہیں جن کے گردان کی روشنی کے نتیجہ میں نیا آسمان جنم لیتا ہے اور اس طریق کا مشاہدہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دوبارہ کیا۔مگر بہت سا وقت گزر گیا ہے اور دنیا کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی نکل گیا ہے۔لوگ تبدیل ہو چکے ہیں۔اسی طرح احمدی بھی بدقسمتی سے اس رویہ کے حامل نہیں رہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھا۔اور کئی پہلوؤں سے وہ معیار سے نیچے گر گئے ہیں اور یہ وہ پہلو ہے جس کے بارہ میں